خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 577 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 577

خطبات مسرور جلد 16 577 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 حضرت سعد بن زید الا تھلی ایک صحابی تھے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عبد الا شھل سے تھا۔غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔بعض کا خیال ہے کہ بیعت عقبہ میں بھی شریک ہوئے۔غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے ہاتھ بنو قریظہ کے قیدی بھیجے تھے۔آپ نے ان کے بدلے میں نجد میں گھوڑے اور ہتھیار خریدے تھے۔(اسد الغابة جلد 2 صفحه 217-218 ، سعد بن زيد بن مالك، دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) روایت ہے کہ حضرت سعد بن زید نے ایک نجرانی تلوار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں دی تھی۔آپ نے وہ تلوار حضرت محمد بن مسلمہ کو عنایت کر دی اور فرمایا تھا کہ اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جب لوگ آپس میں اختلاف کرنے لگیں تو اس کو پتھر پر دے مارنا اور گھر میں گھس جانا (اسد الغابة جلد 2 صفحه 216 ، سعد بن زيد الاشهلى دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) یعنی کسی بھی قسم کے فتنہ اور فساد میں شامل نہیں ہونا۔اللہ کرے کہ ان باتوں پر عمل کرنے والے آجکل وہ مسلمان بھی ہوں جو ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں اور دنیا میں امن قائم ہو۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند کرتا چلا جائے اور ہمیں بھی نیکیاں کرنے اور قربانیاں کرنے اور اخلاص و وفا کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 14 دسمبر 2018ء تا20 دسمبر 2018ء جلد 25 شمارہ 50 صفحہ 05تا10)