خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 576
خطبات مسرور جلد 16 576 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 شریک تھے۔خلیفہ بن عدی بن عمرو بن مالک بن عمرو بن مالک بن علی بن بیاضہ اصحاب بدر میں سے تھے۔(اسد الغابة جلد 1 صفحه 710-711 ،خليفة بن عدى، دار الفكر النشر و التوزيع بيروت 2003ء) اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحہ 179 ، علیفہ بن عدی، مکتبہ اسلامیہ 2015ء) غزوہ بدر سے پہلے مشرف با اسلام ہوئے اور سب سے پہلے غزوہ بدر میں شریک ہو کر بدری صحابی ہونے کی سعادت حاصل کی۔اس کے بعد غزوہ احد میں شریک ہوئے۔غزوۂ احد کے بعد ان کا نام پر دہ اخفاء میں چلا جاتا ہے، ظاہر نہیں ہوتا، مزید کوئی معلومات نہیں ان کے بارے میں، اور حضرت علی کے عہد خلافت میں منظر عام پر آتا ہے۔بڑا لمبا عرصہ ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں، پھر علی کے عہد خلافت میں پیش آنے والی تمام لڑائیوں میں یہ حضرت علی کے ساتھ شریک ہوئے۔اور وفات کے سال کے بارے میں بھی سیرت کی کتابوں میں کچھ نہیں ملتا۔(حبیب کبریا کے تین سو اصحاب از طالب الہاشمی صفحہ 221، خلیفہ بن عدی، القمر انٹر پرائزز لاہور 1999ء) حضرت معاذ بن ماعص کی واقعہ بئر معونہ میں شہادت ہوئی۔ان کے والد کا نام ناعص بھی بیان ہوتا ہے۔ان کا تعلق خزرج قبیلہ زرقی سے تھا۔بعض روایت کے مطابق آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے اور بئر معونہ کے موقعہ پر شہید ہوئے۔ایک روایت کے مطابق آپ غزوہ بدر میں زخمی ہو گئے تھے اور کچھ عرصہ بعد اسی زخم کی وجہ سے وفات پاگئے تھے۔(اسد الغابة جلد 5 صفحه 196 ، معاذ بن ماعص، دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) آپ کے ساتھ آپ کے بھائی عائذ بن ما عص بھی غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔حديدة (اسد الغابة جلد 3 صفحه 147 عائذ بن ماعص، دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) صلح کے بعد جب عیینہ بن حصن نے غطفان قبیلہ کے ساتھ جنگل میں چرنے والی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں پر حملہ کیا اور حفاظت پر مامور ایک شخص کو قتل کر کے اونٹنیوں کو ہانک کر لے گیا اور شہید ہونے والے شخص کی بیوی کو بھی اٹھا کر لے گیا تب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ نے آٹھ سواروں کو دشمن کے تعاقب میں بھیجا۔ان آٹھ سواروں میں حضرت معاذ بن ماعص بھی شامل تھے۔اس موقع پر ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان آٹھ سواروں میں حضرت ابو عیاش بھی شامل تھے۔بھیجنے سے پہلے آپ نے حضرت ابو عیاش سے فرمایا کہ تم اپنا گھوڑا کسی اور کو دے دو جو تم سے اچھا شہسوار ہے۔ابو عیاش نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں ان سب سے بہتر شہسوار ہوں۔کہتے ہیں یہ کہہ کر ابھی میں پچاس گز ہی چلا تھا کہ گھوڑے نے گرادیا۔ابو عیاش کہتے ہیں کہ اس پر میں بہت زیادہ فکر مند ہوا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اگر تم اپنا گھوڑا کسی اور کو دے دو تو بہتر ہے جبکہ میں کہہ رہا تھا کہ میں ان سب سے بہتر ہوں۔پھر بنو زریق کے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیاش کے گھوڑے پر معاذ بن ماعص یا عائذ بن ماعص کو سوار کر دیا۔( تاريخ الطبری جلد 3 صفحه 113 ، 115 ، غزوة ذى قرد، دار الفکر بيروت 2002ء) (سیرت ابن هشام صفحه 486 باب غزوه ذی قرد مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء)