خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 575 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 575

خطبات مسرور جلد 16 575 دعادی۔حضرت سعد بن عثمان کی 80 سال کی عمر تھی جب ان کی وفات ہوئی۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان منصورپوری صفحه 148 ، سعد بن عثمان، مکتبه اسلاميه 2015ء) (اسد الغابة جلد 2 صفحه 263، سعيد بن عثمان دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) (الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه 58 سعد بن عثمان بن خلدة دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) پھر ایک صحابی حضرت عامر بن امیہ ہیں۔حضرت ھشام بن عامر کے والد تھے۔بدر میں شامل تھے اور احد میں شہید ہوئے۔قبیلہ بنو عدی بن نجار میں سے تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 389 عامر بن امیه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ھشام بن عامر سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے شہداء کو دفنانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وسیع قبر کھو دو اور دو یا تین کو ایک قبر میں اتار دو۔فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ آتا ہو اس کو پہلے اتارو۔حضرت ھشام بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد عامر بن امیہ کو دو آدمیوں سے پہلے قبر میں اتارا گیا۔خوب (سنن الترمذى ابواب فضائل الجهاد ، ما جاء فى دفن الشهداء حديث 1713) حضرت عامر کے بیٹے ھشام بن عامر ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کہ عامر کیا ، شخص تھا۔لیکن آپ کی پھر نسل نہیں چلی۔(اسد الغابة جلد 3 صفحه 12 عامر بن امية، دار الفكر النشر و التوزيع بيروت 2003ء) حضرت عمرو بن ابی سرح ایک صحابی تھے اور واقدی نے ان کا نام معمر بن ابی سرح بیان کیا ہے۔قبیلہ بنو حارث بن فہر میں سے تھے۔ابوسعید ان کی کنیت تھی۔تیس ہجری کو مدینہ منورہ میں حضرت عثمان کے دور میں ان کی وفات ہوئی۔ان کے بھائی حضرت وہب بن ابی سرح مہاجرین حبشہ میں سے تھے۔دونوں بھائی غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔غزوہ احد اور غزوہ خندق اور دیگر مشاہد میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ان کی نسل کوئی نہیں چلی۔(اسد الغابة جلد 3 صفحه 725724 ، عمرو بن ابی سرح دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو حضرت کلثوم بن ہرم کے مکان پر آکر قیام کیا۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 318 ، معمر بن ابی سرح دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) پھر حضرت عصمہ بن حصین ایک صحابی تھے جو قبیلہ بنو عوف بن خزرج سے تھے۔ان کے بھائی ھبیل بن وبرۃ اپنے داد او برۃ کی طرف منسوب ہیں۔یہ اور ان کے بھائی بدر میں شامل ہوئے تھے۔بعض نے آپ کے بدر میں شامل ہونے سے اختلاف کیا ہے۔(اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان منصورپوری صفحه 177 ، عصمه بن الحصين مكتبه اسلاميه 2015ء) لیکن بہر حال بعض نے لکھا ہے کہ شامل ہوئے۔حضرت خلیفہ بن عدی۔ان کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ان کا نام بعض نے خلیفہ بن عدی لکھا اور بعض نے خلیفہ بن عدی۔غزوہ بدر اور غزوہ احد دونوں میں -