خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 574

خطبات مسرور جلد 16 574 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہو گا کیونکہ آپ بدری صحابی تھے اور بدری صحابہ کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ نے کھلا بخشش کا اعلان فرمایا ہوا ہے اور ان میں منافقت اور کسی قسم کی کمزوری نہیں ہو سکتی تھی۔علامہ ابن حجر عسقلانی یہ لکھتے ہیں کہ ابن قلبی کے قول سے اس بات میں فرق یقینی ہو جاتا ہے کہ بدری صحابی احد میں شہید ہو گئے جس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن مردویہ نے عطیہ کی سند سے بحوالہ ابن عباس مذکورہ آیت کے متعلق اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے جو فرماتے ہیں کہ ایک شخص تھا جسے ثعلبہ بن ابی حاطب کہا جاتا تھا وہ انصار میں سے تھا ان کی ایک مجلس میں آکر کہنے لگا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے نوازے پھر ، یہ سارا طویل قصہ جو بیان ہے بیان کیا۔یہ ثعلبہ بن ابی حاطب ہے اور بدری صحابی کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ وہ ثعلبہ بن حاطب ہیں اور یہ روایت پایہ ثبوت تک پہنچی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے ان میں سے کوئی مسلمان بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔نیز وہ ایک حدیث قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے فرمایا جو چاہے کرو، میں نے تمہاری مغفرت کر دی۔تو یہ لکھتے ہیں کہ جس کا یہ مرتبہ ہو اسے اللہ تعالیٰ دل میں نفاق کا بدلہ کیسے دے گا؟ دل میں اگر نفاق ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ جنت میں جانے کا بدلہ ملے۔پھر لکھتے ہیں کہ اور جو کچھ نازل ہوا اس کے متعلق کیسے نازل ہو سکتا ہے جس کے دل میں نفاق ہو ! لہذا یہ بات ظاہر ہو گئی کہ وہ اس شخصیت کے علاوہ ہیں۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 1 صفحه 516-517 ، ثعلبة بن حاطب دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) یعنی حضرت ثعلبہ جو تھے وہ نہیں تھے یہ اور تھے۔یہ پہلے شہید ہو گئے تھے۔اور جس کا ذکر ہے وہ ثعلبہ بن ابی حاطب ہے۔اب نام ملتے جلتے ہیں اس لئے یہ غلط فہمی ہوئی۔اس لئے ثعلبہ بن حاطب اور ثعلبہ بن ابی حاطب دو مختلف شخصیتیں ہیں۔پس یہ غلط فہمی کسی بدری صحابی کے بارے میں کبھی نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی ہوگی۔اللہ جزا دے علامہ ابن حجر عسقلانی کو کہ انہوں نے بھی اس مسئلہ کو بڑا کھول کے بیان کر دیا اور اس بدری صحابی پہ جو الزام لگ رہا تھا ان کی اس تاریخی روایت سے ہی ان کی بریت ثابت ہو گئی۔پھر ایک صحابی حضرت سعد بن عثمان بن خلدة انصاری ہیں۔بعض کے نزدیک ان کا نام سعید بن عثمان ہے۔غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ان اشخاص میں سے ہیں جن کے پاؤں جنگ احد میں اکھڑ گئے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کی معافی کو قرآن کریم میں نازل فرمایا۔آپ حضرت عقبہ کے بھائی تھے۔ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حرہ کے مقام پر بئر احاب پر تشریف لائے جو ان دنوں آپ کی یعنی کہ ان صحابی کی ملکیت تھا جہاں آپ اپنے بیٹے عبادہ کو چھوڑ گئے تھے تا کہ وہ لوگوں کو پانی پلائیں۔حضرت عبادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پہچان پائے۔جو چھوٹے بیٹے تھے۔بعد میں جب حضرت سعد آئے تو عبادہ نے آنے والی شخصیت کا حلیہ بیان کیا تو حضرت سعد نے کہا کہ یہی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے جن کو تم نے پہچانا نہیں۔جاؤ جا کے ملو ان سے ، فوری دوڑ کے جاؤ پیچھے۔چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر