خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 573
خطبات مسرور جلد 16 573 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 کی چند بکریاں تھیں اور اس کے بعد اس میں اتنی برکت پڑی اور اس طرح وہ بڑھیں جس طرح کیڑے مکوڑے بڑھتے ہیں۔اور پھر یہ ہوا کہ ان کو سنبھالنے کے لئے انہوں نے ظہر عصر کی نمازوں پر بھی مسجد میں آنا چھوڑ دیا اور وہیں پھر پڑھنے لگے۔اور زیادہ بڑھ گئیں تو جمعہ پہ بھی نہیں آتے تھے۔جمعہ پہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کا احوال پوچھا کرتے تھے تو ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیہ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ اس کے پاس بکریوں کا اتنا بڑا ریوڑ ہے کہ پوری وادی بھری ہوئی ہے اس لئے ان کو سنبھالنے میں وقت لگ جاتا ہے، وہ نہیں آتے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بڑے افسوس کا اظہار کیا۔تین دفعہ افسوس کا اظہار کیا۔پھر جب زکوۃ کی آیات نازل ہوئیں تو آپ نے زکوۃ لینے کے لئے دو آدمیوں کو بھیجا۔یہ لوگ جب ثعلبہ کے پاس گئے تو انہوں نے کچھ بہانہ بنایا اور زکوۃ نہیں دی۔انہوں نے کہا اچھا میں سوچتا ہوں۔تم لوگ باقی جگہوں پر زکوۃ لینے جارہے ہو ، وہاں سے ہو کے واپس آؤ۔یہ لوگ اور جگہوں پر گئے اور دوسری جگہ جہاں گئے تھے ایک شخص نے اپنے بہترین اونٹوں میں سے زکوۃ دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہترین تو نہیں مانگا تھا انہوں نے کہا نہیں ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں۔بہر حال یہ ایک لمبا قصہ ہے اور انہوں نے زکوۃ نہیں دی اور زکوۃ اکٹھی کرنے والے جو لینے کے لئے گئے تھے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر جب یہ رپورٹ دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت یہ آیات اتریں کہ وَمِنْهُمْ مَّنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ اتْنَا مِنْ فَضْلِهِ اور پھر یہ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (التوبه: 75-77) تک سورۃ توبہ کی پچھتر سے ستتر تک آیات ہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ثعلبہ کا ایک عزیز بیٹھا ہوا تھا۔یہ بات سن کر وہ ثعلبہ کے پاس گیا اور کہا اے ثعلبہ تجھ پر افسوس ہے۔اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں فلاں فلاں آیت نازل کی ہے۔ثعلبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاکر عرض کرنے لگا کہ مجھ سے زکوۃ قبول کی جائے۔آپ نے فرمایا کہ اب تجھ سے وصول کرنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے منع کر دیا ہے۔چنانچہ واپس ناکام و نامراد گیا۔پھر حضرت ابو بکر کے زمانے میں وہ زکوۃ لے کے آئے حضرت ابو بکر نے بھی قبول نہیں کی۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں آئے انہوں نے بھی قبول نہیں کی کہ جس بات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں کیا میں کس طرح قبول کر سکتا ہوں۔پھر حضرت عثمان جب خلیفہ بنے تو ان کے پاس آکر کہنے لگے میری زکوۃ قبول کریں تو یہ قبول نہیں کی گئی اور حضرت عثمان کے زمانے میں ہی ان کی وفات ہو گئی۔(اسد الغابة جلد 1 صفحه 325-326 ، ثعلبة بن حاطب، دار الفكر النشر و التوزيع بيروت 2003ء) اب یہ واقعہ جو ہے یہ ساتھ ایک طرف بدری صحابہ کے بارے میں ہے کہ وہ جنت میں جانے والے ہیں۔دوسری طرف زکوۃ قبول نہ کرنے کے بارے میں یہ ایک لمبی روایت چل رہی ہے۔میرے دل میں بھی خیال پیدا ہوا تھا اس کو سن کے ، پڑھ کے ، آپ لوگوں کے دلوں میں بھی ہوا ہو گا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ لگتا ہے کہ یہ روایت غلط ہے، کسی اور کے بارے میں ہو گی۔چنانچہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے بھی اس کو اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر یہ صحیح ثابت ہو جائے کہ کسی صحابی سے زکوۃ لینے کا اور نہ لینے کا یہ واقعہ اس طرح ہی ہوا تھا، تو پھر اس قصہ والی شخصیت کے بارے میں میرے خیال میں اسے حضرت ثعلبہ کی