خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 572 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 572

خطبات مسرور جلد 16 572 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 ساتھ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے۔(اسد الغابة جلد 2 صفحه 466 ، طفيل بن الحارث دار الفكر النشر و التوزيع بيروت 2003ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طفیل بن حارث کی مؤاخات حضرت منذر بن محمد اور بعض روایات کے مطابق حضرت سفیان بن نسر سے قائم فرمائی۔حضرت طفیل کی وفات ستر سال کی عمر میں 32 ہجری کو ہوئی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 38 الطفيل بن الحارث، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی حضرت ابو سلیط ائیرہ بن عمر و ہیں۔ائیرۃ بن عمروان کا نام تھا اور کنیت ابو سلیط تھی اور ابوسلیط کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔ان کے والد عمرو بھی ابو خارجہ کنیت سے معروف ہیں۔بدر اور دیگر غزوات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے۔(اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحہ 131، مکتبہ اسلامیہ 2015ء) آپ خزرج کی شاخ عدی بن نجار سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد ابو خارجہ عمرو بن قیس بھی صحابی تھے۔(صحابہ کرام کا انسائیکلو پیڈیا از ڈاکٹر ذوالفقار کاظم صفحہ 508 ، ابوسلیط اسیرۃ بن عمرو، بیت العلوم لاہور ) جنگ بدر میں شریک ہوئے۔آپ کے بیٹے عبد اللہ نے آپ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا تھا اور اس وقت دیگیں چڑھی ہوئی تھیں جن میں گدھے کا گوشت پک رہا تھا تو ہم لوگوں نے ان دیگوں کو الٹ دیا۔(اسد الغابة جلد 5 صفحه 156، ابو سليط الانصاري، دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) حضرت ثعلبہ بن حاطب انصاری ایک صحابی تھے۔ان کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا۔غزوہ بدر اور احد میں یہ شریک ہوئے۔اصحاب بدر از قاضی محمد سلیمان منصور پوری صفحہ 136 ، مکتبہ اسلامیہ 2015ء) جیسا کہ بتایا قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف سے تعلق تھا۔غزوہ بدر اور بعض دوسرے غزوات میں بھی ان کی شرکت کی روایات ملتی ہیں۔(صحابہ کرام کا انسائیکلو پیڈیا از ڈاکٹر ذوالفقار کاظم صفحہ 450، ثعلبہ بن حاطب انصاری، بیت العلوم لاہور ) حضرت امامہ باصلی بیان کرتے ہیں کہ تعلبہ بن حاطب انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر یہ عرض کی کہ اے اللہ کے رسول اللہ سے دعا کریں کہ وہ مجھے مال عطا کرے۔آپ نے اس پر فرمایا کہ افسوس کی بات ہے کہ بہت تھوڑے ہیں جو شکر کرتے ہیں اور مال کو سنبھالنے کی طاقت نہیں رکھتے۔دعا نہیں کی کچھ دیر کے بعد پھر وہ آئے اور عرض کی کہ دعا کریں مجھے مال عطا ہو جائے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تیرے لئے میرا اسوہ حسنہ کافی نہیں ہے جو مال کی خواہش کر رہے ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میں پہاڑ کو کہوں کہ وہ میرے لئے سونے اور چاندی کا بن جائے تو ایسا ہی ہو جائے لیکن آپ نے کہا میں ایسا نہیں کرتا۔مال سے زیادہ رغبت نہیں رکھنی چاہئے۔پھر تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پھر اسی طرح عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے دعا کریں کہ مجھے مال عطا ہو۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ ثعلبہ کو مال عطا کر دے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ ان