خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 571 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 571

خطبات مسرور جلد 16 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 تھا۔جب لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں تو ایسے شخص پر اللہ آگ کو حرام کر دے گا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه 162-16، سهل بن بيضاء القرشي، دار الكتب العلمية بیروت 1995ء) (الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه 176 سهيل بن السمط، دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 317 سهيل ابن بيضاء، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) اب یہ تاریخ کی کتاب ہے اور یہ مسلمان پڑھتے ہیں کہ یہ مسلمان ہونے کی بھی ایک تعریف ہے لیکن ان کے عمل اس کے خلاف ہیں اور اس بات پر جو ان کے فتوے ہیں وہ بھی ان باتوں کے خلاف ہیں۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی شراب نہ ہوتی تھی سوائے تمہاری فضیخ یعنی کھجور کی شراب کے۔یہی وہ شراب تھی جس کو تم فضیح کہتے ہو۔کہتے ہیں میں ایک دفعہ کھڑا ابو طلحہ اور فلاں فلاں کو شراب پلا رہا تھا کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کیا تمہیں خبر پہنچی ہے؟ کہنے لگا کیا خبر ؟ اس نے کہا کہ شراب حرام کی گئی ہے۔وہ لوگ جن کو یہ شراب پلا رہے تھے حضرت انس کو کہنے لگے کہ انس یہ مٹکے انڈیل دو۔کہتے تھے پھر انہوں نے اس شخص کی خبر دینے کے بعد اس شراب سے متعلق پوچھا اور نہ کبھی اس کو دوبارہ پیا۔(صحيح البخارى كتاب التفسير باب انما الخمر والميسر۔۔۔حديث 4617) ایک حکم آیا اور اس کے بعد ایسی اطاعت تھی کہ دوبارہ پھر اس شراب کا ذکر بھی نہیں ہوا۔ایک دوسری حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابو طلحہ کے ساتھ حضرت ابودجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء تھے جو اس وقت شراب پی رہے تھے۔غزوہ تبوک سے واپسی پر 9 ہجری میں ان کی وفات ہوئی اور ان کی نماز جنازہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں پڑھائی اور وفات کے وقت ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔(صحيح البخاري كتاب الاشربة باب من رأى ان لا يخلط البسر۔۔۔حديث 5600) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 317 سهيل ابن بيضاء، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) حضرت عباد بن عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کا جنازہ مسجد سے گزارا جائے یعنی کہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔لوگوں نے حضرت عائشہ کی اس بات کو اوپر اجانا کہ یہ عجیب بات کر رہی ہیں تو حضرت عائشہ نے فرمایا کہ لوگ کتنی جلدی بھول جاتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔( مترجم صحیح مسلم کتاب الجنائز باب الصلاة على الجنازة في المسجد حديث 1603 جلد 4 صفحہ 135 از نور فاؤنڈیشن) ان کا خیال تھا کہ کھلی جگہ پر پڑھنی چاہئے تو اس کی اصلاح حضرت عائشہ نے فرمائی کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔حضرت طفیل بن حارث ایک صحابی تھے۔حضرت طفیل اپنے بھائی حضرت عبیدہ اور حضرت حصین کے