خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 49

خطبات مسرور جلد 16 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 إِلَيْهِ الْمَصِیر تک پڑھا اور آیتہ الکرسی بھی پڑھی تو ان دونوں کے ذریعہ سے اس کے شام کرنے تک کی حفاظت کی جائے گی اور جس نے یہ دونوں شام کے وقت پڑھیں تو ان کے ذریعہ اس کے صبح کرنے تک حفاظت کی جائے گی۔(سنن الترمذی ابواب فضائل القرآن باب ما جاء في سورة البقرة وآية الكرسي حديث 2879) حصہ جو ہے سورۃ المومن کی دوسری آیت ہے۔پہلی بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔رحمن اور رحیم کی ترجمہ سے وضاحت ہو گئی۔پھر حم ہے جو حروف مقطعات ہیں۔یہ جو فرمایا حمد۔یہ حمید اور مجید کے الفاظ ہیں۔حمید کا مطلب ہے وہ جو تعریف کے قابل اور حقیقی تعریف اسی کو زیبا ہے۔یعنی خدا تعالیٰ ہی ہے جو صاحب حد ہے۔حمد کی تفسیر: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حمد کے لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف کے اچھے فعل پر کی جائے۔نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو اور اپنی مشیت کے مطابق احسان کیا ہو۔اور فرمایا اور حقیقت حمد کما حقہ صرف اسی ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض و انوار کا مبدء ہو اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور پر یا کسی مجبوری سے۔حمد اسی کی کی جاتی ہے، حقیقی محمد کا وہی حقدار ہے جو احسان کسی وجہ سے نہیں، مجبوری سے نہیں کرتا بلکہ بے شمار احسانات کرتا چلا جاتا ہے اور فرمایا کہ حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں اور وہی محسن ہے اور اوّل و آخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں اور سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا میں بھی۔اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا مر جمع بھی وہی ہے۔(ماخوذ از اعجاز المسیح مترجم صفحه 97 مطبوعه نظارت اشاعت ربوہ) یعنی اگر کسی غیر کے متعلق حمد کی جاتی ہے تو وہ جو دوسروں کو تعریف کے قابل بنایا ہے یا اس قابل بنایا کہ انہوں نے کوئی ایسا کام کیا جس کی تعریف کی جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کا ہی فیض ہے۔اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں تو فیق دی کہ وہ ایسا کام کریں جس سے ان کی تعریف ہو۔حمد کے لفظ کی وضاحت فرماتے ہوئے مزید آپ نے فرمایا کہ: " حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب اقتدار شریف ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے زبان سے کی جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہمارا وہ رب ہے جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا اور ذلیل لوگوں کو عزت بخشنے والا ہے۔اور وہ محمودوں کا محمود ہے۔" (کرامات الصادقین مترجم صفحه 133 مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ) یعنی وہ ہستیاں جو خود قابل حمد ہیں ( قابل تعریف ہیں ) وہ سب اس کی حمد میں لگی ہوئی ہیں۔پھر آپ نے اسی لفظ حمد کی وضاحت کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ: لفظ حمد میں ایک اور اشارہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! میری صفات سے مجھے شناخت کرو اور میرے کمالات سے مجھے پہچانو۔میں ناقص ہستیوں کی مانند نہیں بلکہ میری حمد کا