خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 570
خطبات مسرور جلد 16 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 میں ہوئی، دور میں کہنا چاہئے خلافت نہیں تھی۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 357 ، جبر بن عتيك دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) ایک صحابی کا نام حضرت ثابت بن ثعلبہ تھا۔ان کو ثابت بن جزع بھی کہا جاتا ہے۔ستر انصار کے ساتھ عقبہ ثانیہ میں حاضر ہوئے۔غزوہ بدر، احد اور خندق، حدیبیہ اور خیبر اور فتح مکہ اور غزوہ طائف میں آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔غزوہ طائف میں شہید ہوئے۔حضرت ثابت اپنے والد حضرت ثعلبہ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 428 429 ثابت بن ثعلبة دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) (اسد الغابة جلد 1 صفحه 324 ، ثعلبة بن الحارث، دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) پھر ایک صحابی حضرت سہیل بن وہب ہیں۔ان کا نام حضرت سہیل بن وہب بن ربیعہ بن عمر و بن عامر قریشی تھا۔ان کی والدہ کا نام دعد تھا مگر وہ بیضاء کے نام سے مشہور تھیں۔اس لئے آپ بھی ابن بیضاء کے نام سے مشہور ہوئے۔چنانچہ کتب میں آپ کا نام سہیل بن بیضاء بھی ملتا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو فھر سے تھا۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه 162 سهل بن بيضاء القرشي، دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) (اسد الغابة جلد 2 صفحه 344 ، ثعلبة بن الحارث، دار الفكر النشر والتوزيع بيروت 2003ء) ابتدائی زمانے میں یہ اسلام لائے۔اسلام لانے کے بعد حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔وہاں عرصہ تک مقیم رہے۔جب اسلام کی اعلانیہ تبلیغ ہونے لگی تو مکہ واپس آگئے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدینہ گئے۔(سیر الصحابة جلد 2 صفحہ 577 سھیل بن بیضاء، دار الاشاعت کراچی) حضرت سہیل کے ساتھ ان کے دوسرے بھائی حضرت صفوان بن بیضاء بھی غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 318 صفوان بن بيضاء، دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) جب آپ غزوہ بدر میں شامل ہوئے اس وقت آپ کی عمر 34 سال تھی۔غزوہ احد اور خندق اور تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ان کے تیسرے بھائی سہل مشرکین کی طرف سے غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ سہل مکہ میں اسلام لائے لیکن کسی سے اپنا مسلمان ہو نا ظاہر نہیں کیا۔قریش انہیں بدر میں ساتھ لے گئے اور پھر وہ گر فتار ہوئے تو حضرت ابن مسعود نے ان کے بارے میں گواہی دی کہ میں نے انہیں مکہ میں نماز پڑھتے دیکھا ہے۔اس پر وہ آزاد کر دیئے گئے پھر مدینہ میں ان کی وفات ہوئی اور آپ کا اور حضرت سہیل کا جنازہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پڑھایا۔حضرت سہیل بن بیضاء روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر میں انہیں سواری پر پیچھے بٹھایا ہوا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا اے سہیل! اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یوں فرمایا تو ہر مرتبہ حضرت سہیل نے عرض کیا لبیک یارسول اللہ۔یہاں تک کہ لوگوں نے بھی جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان سے مراد ہے۔اس پر جو لوگ آگے تھے وہ آپ کی طرف لپکے اور جو پیچھے تھے وہ بھی آپ کے قریب ہو گئے۔یہ بھی لوگوں کو بلانے کا، متوجہ کرنے کا انداز