خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 569
خطبات مسرور جلد 16 569 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 ابی رھم کے درمیان مواخات قائم فرمائی لیکن ابن اسحاق کے نزدیک سلمہ بن سلامہ اور حضرت زبیر بن العوام کے در میان مواخات قائم ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 335 سلمة بن سلامة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آپ اپنے بچپن کا ایک واقعہ خود بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب کہ میں چھوٹی عمر کا تھا اور اپنے خاندان کے چند آدمیوں میں بیٹھا ہو ا تھا کہ ایک یہودی عالم وہاں آگیا اور اس نے ہمارے سامنے قیامت اور حساب اور میزان اور جنت اور دوزخ کا ذکر شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ مشرک اور بت پرست جہنم میں ڈالے جائیں گے۔آپ کے خاندان کے لوگ چونکہ بت پرست تھے اس لئے وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے تھے کہ مرنے کے بعد لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے۔ان لوگوں نے اس یہودی عالم سے پوچھا کہ کیا واقعی لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے ؟ اور اپنے اعمال کا بدلہ پائیں گے۔آخرت کی زندگی کا ان کو کوئی تصور نہیں تھا۔اس نے کہا کہ ہاں۔انہوں نے پوچھا کہ اس کی نشانی کیا ہے ؟ اس پر اس نے مکہ اور یمن کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس جگہ سے ایک نبی آئے گا۔اس پر ان لوگوں نے پوچھا کہ وہ کب آئے گا؟ تو اس نے میری طرف اشارہ کیا۔کہتے ہیں میں بچہ تھا، چھوٹا تھا میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس لڑکے نے عمر پائی تو یہ ضرور اس نبی کو دیکھے گا۔حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کو کچھ سال ہی گزرے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی ہمیں اطلاع ملی اور ہم سب ایمان لے آئے، یہ جو بت پرست تھے آگ پرست تھے سب ایمان لے آئے۔کہتے ہیں اس وقت وہ یہودی عالم بھی زندہ تھا مگر حسد کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لایا اور ہم نے اس کو کہا کہ تم ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبریں سنایا کرتے تھے اب خود ہی ایمان نہیں لائے۔اس پر اس نے کہا کہ یہ وہ نبی نہیں ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔کہتے ہیں کہ آخر وہ شخص اسی طرح کفر کی حالت میں مر گیا۔حضرت عثمان کے زمانے میں جب فتنوں نے سر اٹھایا تو آپ نے عزلت نشینی اختیار کرلی اور اپنے آپ کو عبادت الہی کے لئے وقف کر دیا۔(رحمت دارین کے سوشیدائی صفحہ 574 تا 576 ، طالب الہاشمی البدر پبلیکیشنز لاہور 2003ء) یعنی کہ گوشہ نشین ہو گئے کیونکہ فتنے اس وقت کافی بڑھ رہے تھے اور صرف عبادت الہی کیا کرتے تھے۔ان کی وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض کہتے ہیں 34 ہجری میں وفات ہوئی بعض کہتے ہیں 45 ہجری میں وفات ہوئی۔ان کی عمر 74 سال تھی جب ان کی وفات ہوئی اور مدینہ میں ہی وفات ہوئی۔(الاصابة في تمييز الصحابة جلد 3 صفحه 125 ، سلمة بن سلامة بن ،وقش دار الكتب العلمية بيروت 2005ء) پھر حضرت جبر بن عتیک ایک بدری صحابی تھے۔غزوہ بدر اور تمام غزوات میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ یہ شریک تھے۔مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک وہیں رہے۔حضرت جبر بن عتیک کی کنیت عبد اللہ تھی۔اولاد میں دو بیٹے علیک اور عبد اللہ اور ایک بیٹی ام ثابت تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبر بن عتیک اور خباب بن الارت کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔فتح مکہ کے موقع پر بنو معاویہ بن مالک کا جھنڈا آپ کے پاس تھا۔حضرت جبر بن عتیک کی وفات 61 ہجری میں یزید بن معاویہ کی خلافت میں اکہتر سال کی عمر