خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 568

خطبات مسرور جلد 16 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 حملہ کر دیتے۔جب آپ اس قوم کی طرف پہنچے جو بُزاخہ مقام میں تھی تو آپ نے حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم کو مخبر بنا کر بھیجا کہ دشمن کی خبر لائیں اور وہ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔حضرت عکاشہ کے گھوڑے کا نام الزرام تھا اور حضرت ثابت کے گھوڑے کا نام المحبر تھا۔بہر حال ان دونوں کا سامنا طلیحہ اور اس کے بھائی سلمہ سے ہوا۔یہ انہی کی طرح مخبری کرنے کے لئے آگے آئے ہوئے تھے ، اپنے لشکر سے آگے آئے ہوئے تھے۔طلیحہ کا سامنا حضرت عکاشہ سے ہوا اور سلمہ کا حضرت ثابت سے۔اور یہ جو بھائی تھے ان دونوں نے ان دونوں صحابہ کو شہید کر دیا۔ابو واقد ئیشی سے ایک روایت ہے کہ ہم دو سو سوار لشکر کے آگے آگے چلنے والے تھے اور زید بن خطاب ہمارے امیر تھے اور ثابت اور عکاشہ ہمارے آگے تھے۔جب ہم لوگ ان کے پاس سے گزرے تو ہمیں یہ منظر شدید ناگوار گزرا۔( ان کی شہادت کے بعد جب پیچھے سے یہ لشکر گزرا۔) حضرت خالد اور باقی مسلمان ہمارے پیچھے تھے۔ہم ان مقتولوں کے پاس کھڑے رہے ، یہ جو شہید ہوئے تھے یہاں تک کہ حضرت خالد آئے اور ان کے حکم سے ہم نے ثابت اور عکاشہ کو ان کے خون آلود کپڑوں میں وہیں دفن کر دیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 55-356 ثابت بن اقرم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) روایت میں آتا ہے کہ جب طلیحہ مسلمان ہوئے تو حضرت امیر المومنین عمرؓ نے ان سے فرمایا کہ میں تم سے محبت نہیں کروں گا تم دو مسلمان حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت بن اقرم کے شہید ہونے کی وجہ ہو۔یہ شہید کرنے والے جو تھے بعد میں مسلمان بھی ہو گئے تو ان کو حضرت عمرؓ نے یہ جواب دیا کہ تمہارے سے محبت نہیں مجھ کو ہو سکتی کیونکہ تم دو مسلمانوں کو شہید کرنے والے ہو۔اس پر طلیحہ نے کہا کہ یا امیر المومنین ! ان کو تو اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے عزت عطا فرمائی ہے۔(سنن الكبرى للبيهقى جلد 8 صفحه -580-58 كتاب الاشربة باب قتال اهل الردة و۔۔۔الخ حديث 17631 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت ثابت کو طلیحہ نے بارہ ہجری میں بُزاخہ کے مقام پر شہید کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 55-356 ثابت بن اقرم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت سلمہ بن سلامہ بدری صحابی تھے۔انصاری تھے اور قبیلہ اوس کے خاندان بنو استھل سے ان کا تعلق تھا۔جب مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر پہنچی تو آپ ان اولین لوگوں میں سے تھے جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔(سير الصحابه جلد 3 صفحه 391 سلمه بن سلامة مطبوعة دار الاشاعت کراچی2004ء) آپ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ دونوں میں شامل ہوئے اور نیز آپ کو بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت عمرؓ نے آپ کو اپنے دور خلافت میں یمامہ کا حکمران مقرر فرمایا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 523 سلمة بن سلامة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) عمر بن قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمہ بن سلامہ اور حضرت ابوسبرۃ بن