خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 567

خطبات مسرور جلد 16 567 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 حضرت ثابت بن اقرم بن ثعلبہ ایک بدری صحابی تھے۔ان کا نام حضرت ثابت بن اقرم بن ثعلبہ بن عدی بن عجلان تھا۔انصاری قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے حلیف تھے۔آپ بدر سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک رہے۔الاستيعاب جلد 1 صفحه 199 ثابت بن اقرم مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو عاصم بن عدی کو مسجد دی کہ وہ اس میں اپنا گھر بنائیں مگر عاصم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں اس مسجد کو گھر نہیں بناؤں گا جس میں اللہ تعالیٰ نے جو اتارنا تھا اس کو اتارا ہے۔البتہ آپ اس کو ثابت بن اقرم کو دے دیں کیونکہ اس کے پاس کوئی گھر نہیں ہے تو آپ نے حضرت ثابت بن اقرم کو یہ جگہ عطا فرما دی۔ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی۔(سبل الهدى والرشاد جلد 5 صفحه 677 باب ذکر امر مسجد الضرار۔۔۔الخ مطبوعه القاهره1992ء) غالباً یہ جگہ جو دی تھی وہ مسجد کا حصہ ہوگی یا اس کے قریب ترین جگہ ہو گی اور کسی وقت میں وہاں نمازیں بھی پڑھی جاتی ہوں گی بہر حال ترجمہ کرنے والوں نے جو ترجمہ کیا ہے میرے خیال میں ٹھیک نہیں ہے۔بعض باتوں کی وضاحت ہوتی ہے اس لئے ریسرچ سیل والے جو یہ نوٹس بھجواتے ہیں اس کو ذرا تحقیق کر کے صحیح طرح بھیجا کریں۔صرف سکول کے بچوں کی طرح ترجمے نہ کر دیا کریں۔پھر جنگ موتہ میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد اسلامی جھنڈ ا حضرت ثابت بن اقرم نے اٹھایا اور کہا کہ اے مسلمانوں کے گروہ ! اپنے میں سے کسی ایک شخص کو اپنا سر دار مقرر کرو۔لوگوں نے کہا ہم آپ کو مقرر کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔اس پر لوگوں نے حضرت خالد بن ولید کو اپنا سر دار مقرر کر لیا۔ابن ہشام کی سیرۃ النبی میں اس کا ذکر ہے۔(سیرت ابن هشام صفحه 533 باب ذکر غزوه موته۔۔۔الخ مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) تاریخ میں آتا ہے کہ جنگ موتہ کے موقع پر جب مسلمانوں نے دشمن کا لشکر دیکھا تو اس کی تعداد اور ساز وسامان کو دیکھ کر انہوں نے گمان کیا کہ اس لشکر کا کوئی مقابلہ نہیں۔تو حضرت ابوہریرۃ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگ موتہ میں شرکت کی۔جب دشمن ہمارے قریب آیا تو ہم نے دیکھا کہ تعداد، اسلحہ ، گھوڑوں اور سونے اور ریشم وغیرہ میں اس کا مقابلہ کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔یہ دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا گئیں۔اس پر حضرت ثابت بن اقرم نے مجھ سے کہا کہ اے ابو ہریرہ ! تیری حالت ایسی لگتی ہے جیسے تو نے کوئی بہت بڑا لشکر دیکھ لیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے کہا ہاں۔اس پر حضرت ثابت نے کہا کہ تم ہمارے ساتھ بدر میں شامل نہیں ہوئے۔ہمیں وہاں بھی کثرت تعداد کے ذریعہ فتح نہیں ملی تھی۔(سبل الهدى والرشاد جلد 6 صفحه 148 باب في سرية موته دار الكتب العلميه بيروت 1993ء) بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملی تھی اور یہاں بھی یہی ہو گا۔حضرت ابو بکر کی خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ساتھ آپ مرتدین کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت خالد بن ولید لوگوں کے مقابلہ پر روانہ ہوتے وقت اگر اذان سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو