خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 566
خطبات مسرور جلد 16 566 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 صحابی حضرت حبیب بن اسود ہیں۔حضرت حبیب بن اسود بن سعد انصار کے قبیلہ بنو حرام کے آزاد کردہ غلام تھے۔آپ جنگ بدر اور احد میں شامل ہوئے۔ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔آپ کا ذکر خبیب کے نام سے بھی ملتا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 429 حبیب بن الاسود مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 2 صفحه 18 حبیب بن سعد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)(اسد الغابه جلد 1صفحه 671 حبیب بن الاسود مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر حضرت عقیمہ انصاری ایک صحابی تھے۔حضرت عصیمہ کا تعلق قبیلہ بنو اشجع سے تھا۔بنو غنم بن مالک بن نجار کے حلیف تھے۔غزوہ بدر اور احد اور خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔آپ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں وفات پائی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 377 عصيمة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت رافع بن حارث ایک صحابی تھے۔ان کا نام رافع بن حارث بن سواد ہے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو نجار سے تھا۔غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ان کی وفات ہوئی۔حضرت رافع بن حارث کا ایک بیٹا تھا جس کا نام حارث تھا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 373 رافع بن الحارث مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت رُخیلہ بن ثعلبہ انصاری ایک بدری صحابی تھے۔ان کا نام بھی مختلف طریقوں سے بیان کیا جاتا ہے۔بعض کہتے ہیں رُخیلہ بعض رجیلہ اور رحیلہ وغیرہ۔آپ کے والد کا نام ثعلبہ بن خالد تھا۔غزوہ بدر اور احد میں یہ شریک ہوئے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی ایک شاخ بنو بیاضہ سے تھا اور آپ جنگ صفین میں حضرت علی کے ہمراہ تھے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 273 رخيلة بن ثعلبة جلد 1 صفحه 509 جبلة بن ثعلبة مطبوعه دار الكتب العلميه بیروت 2003ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 450 رخيلة بن ثعلبة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت جابر بن عبد اللہ بن رئاب ایک صحابی تھے۔حضرت جابر کو ان چھ آدمیوں میں بیان کیا جاتا ہے جو انصار میں سب سے پہلے مکہ میں اسلام لائے۔حضرت جابر بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے ، ساتھ شامل ہوئے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں بھی بیان کی ہیں۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 431 جابر بن عبد الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) بیعت عقبہ اولیٰ میں انصار میں سب سے پہلے جو اسلام لائے وہ یہی ہیں۔انصار کے چند لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقبہ اولیٰ کی رات جب ملاقات ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ تم کس قبیلہ سے ہو اس کے بعد انہوں نے پوری تفصیل اپنی بیان کی اور یہ قبیلہ بنو نجار کے چھ آدمی تھے۔اسعد بن زرارہ اور عوف بن حارث بن رفاعہ بن عفراء اور رافع بن مالک بن عجلان اور قطبہ بن عامر بن حديدۃ اور عقبہ بن عامر بن نابی بن زید اور جابر بن عبد اللہ بن رئاب۔یہ سب لوگ مسلمان ہو گئے تھے۔جب یہ لوگ مدینہ آئے تو انہوں نے مدینہ والوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور پھر وہاں تبلیغ کی۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 492 جابر بن عبد الله بن رئاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)