خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد 16 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 بنو عامر بن لوئی سے تھا۔ان کی والدہ اسماء بنت حارث بن نوفل تھیں جو قبیلہ اشجع سے تھیں۔حضرت سہیل بن عمرو، حضرت سلیط بن عمر و اور حضرت سکران بن عمرو آپ کے بھائی تھے۔حضرت حاطب بن عمرو کی اولاد میں عمرو بن حاطب تھے۔ان کی والدہ ریطہ بنت علقمہ تھیں۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 662 حاطب بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 309 حاطب بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دارار تم میں تشریف آوری سے پہلے آپ حضرت ابو بکر صدیق کی تبلیغ سے اسلام لائے تھے۔حبشہ کی سر زمین کی طرف دو دفعہ ہجرت کی اور ایک روایت کے مطابق ہجرت اولیٰ میں سب سے پہلے جو شخص ملک حبشہ میں آئے وہ حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس تھے۔جب آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تو حضرت رفاعہ بن عبد المنذر جو حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر کے بھائی تھے ان کے گھر میں آپ اترے۔غزوہ بدر میں اپنے بھائی حضرت سلیط بن عمرو کے ساتھ شریک تھے اور غزوہ احد میں بھی شریک ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 309 حاطب بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(سیرت ابن هشام صفحه 117, 119 باب اسلام ابى بكر و من معه من السابقين مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت سودہ بنت زمعہ کی شادی حضرت سلیط بن عمرو نے کروائی اور بعض کے نزدیک حضرت ابو حاطب بن عمرو نے شادی کروائی اور اس وقت مہر جو باند ھا گیا تھا وہ چار سو درہم تھا۔اس شادی کی تفصیل طبقات الکبریٰ میں اس طرح درج ہے کہ حضرت سودہ کے خاوند اول حضرت سکران بن عمر و جو کہ حضرت حاطب بن عمرو کے بھائی تھے ان کی حبشہ سے مکہ واپسی پر مکہ میں وفات ہو گئی۔جب حضرت سودہ کی عدت پوری ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف نکاح کا پیغام بھجوایا۔حضرت سودہ نے عرض کیا کہ میرا معاملہ آپ کے سپرد ہے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قوم میں سے کوئی مرد مقرر کریں کہ وہ آپ یعنی حضرت سودہ کی شادی مجھ سے کروائے۔اس پر حضرت سودہ نے حضرت حاطب بن عمرو کو مقرر کیا۔اس طرح حضرت حاطب نے حضرت سودہ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کروائی۔حضرت سودہ حضرت خدیجہ کے بعد پہلی خاتون تھیں جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی۔(سیرت ابن هشام صفحه 661 باب ذکر ازواجه سوده بن زمعة مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 42 ذکر ازواج رسول الله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حدیبیہ کے مقام پر ہونے والی بیعت رضوان میں بھی یہ شریک تھے۔كتاب المغازى جلد دوم صفحه 92 باب غزوہ حدیبیه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2004ء) پھر ایک صحابی تھے حضرت ابو خزیمہ بن اوس۔ان کی والدہ کا نام عمرہ بنت مسعود تھا۔حضرت مسعود بن اوس کے بھائی ہیں۔حضرت مسعود بن اوس بھی جنگ بدر میں شامل ہوئے۔انہوں نے غزوہ بدر میں، احد میں اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی۔ان کی وفات حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں ہوئی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 373 ابو خزیمه بن ،اوش مسعود بن اوش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)