خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد 16 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 پھر ایک صحابی حضرت تمیم مولی خراش ہیں۔حضرت تمیم حضرت خراش کے آزاد کردہ غلام تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اور حضرت خباب جو عتبہ بن غزوان کے آزاد کردہ غلام تھے ان کے در میان مواخات قائم فرمائی۔غزوہ بدر، احد میں انہوں نے شرکت کی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 429 تمیم مولی خراش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت منذر بن قدامہ ایک صحابی تھے۔حضرت منذر بن قدامہ کا تعلق قبیلہ بنو غنم سے تھا۔انہوں نے غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کی۔علامہ واقدی کے مطابق ان کو بنو قینقاع کے قیدیوں پر مقرر کیا گیا تھا۔(الاصابه في تمييز الصحابه جلد 6 صفحه 172 منذر بن قدامة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 367 منذر بن قدامة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر حضرت حارث بن حاطب ایک بدری صحابی تھے۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔آپ کی والدہ کا نام امامہ بنت صامت تھا۔آپ کا تعلق انصار قبیلہ اوس سے تھا۔حضرت ثعلبہ بن حاطب کے بھائی تھے۔حضرت حارث بن حاطب اور حضرت ابولبابہ بن عبد المندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر کے لئے جارہے تھے کہ روحاء کے مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر کو مدینہ کا حاکم جبکہ حضرت حارث بن حاطب کو قبیلہ بنو عمرو بن عوف کا امیر بنا کر مدینہ واپس بھیجوا دیا۔لیکن ان دونوں کو اصحاب بدر میں شامل فرماتے ہوئے مال غنیمت میں سے بھی حصہ دیا۔حضرت حارث بن حاطب کو غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت بیعت رضوان میں بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔کیونکہ یہ تیار ہو کے جارہے تھے اور ان کی پوری نیت تھی کہ بدر میں شامل ہوں گے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود اس کے کہ ان کو امیر مقرر کر کے واپس بھجوایا تھا لیکن ان کا شمار بدر میں شامل ہونے والوں میں کیا۔غزوہ خیبر میں جنگ کے دوران ایک یہودی نے قلعہ کے اوپر سے تیر مارا جو کہ حضرت حارث بن حاطب کے سر پر لگا جس سے آپ شہید ہو گئے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 598 حارث بن حاطب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 351 حارث بن حاطب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ثعلبہ بن زید ایک صحابی تھے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو خزرج سے ہے۔غزوہ بدر میں یہ شامل ہوئے تھے۔حضرت ثابت بن الجذع کے والد تھے۔حضرت ثعلبہ بن زید کا لقب الجذع ہے۔الجذع آپ کی مضبوطی قلب اور مضبوط عزم و ہمت کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی جو مضبوط تنا، درخت کا تنا ہو اس کو بھی جذع کہا جاتا ہے اور چھت کا شہتیر اور بیم جو ہے اس کو بھی کہا جاتا ہے۔بہر حال بڑے مضبوط دل کے مالک تھے اور مضبوط عزم و ہمت کے مالک تھے اس لئے ان کا لقب الجذع پڑ گیا۔حضرت ثعلبہ بن زید کے متعلق اس کے علاوہ کوئی روایت محفوظ نہیں ہے۔(اسد الغابه جلد 1 صفحه 467 ثعلبه بن زید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 428 ثابت بن ثعلبه مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) Arabic-English) Lexicon by Edward William Lane part 2 page 396 librairie du liban 1968)