خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 562
خطبات مسرور جلد 16 562 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2018 کر خبر دی جو اس وقت بنو مالک پر عامل تھے۔(تاریخ الطبری جلد 3 صفحه 245 سنة احدى عشرة۔الخ مطبوعه دار الفكر بيروت 2002ء) دوسرے صحابی جن کا ذکر ہو گا وہ ہیں حضرت مرجع جو حضرت عمر کے غلام تھے۔ان کے والد کا نام صالح تھا۔غزوہ بدر میں یہ سب سے پہلے شہید تھے۔ان کا تعلق یمن سے تھا۔شروع میں قیدی ہونے کی حالت میں یہ حضرت عمرؓ کے پاس لائے گئے۔اس وقت حضرت عمر نے احسان کرتے ہوئے ان کو آزاد کر دیا۔آپ اؤل المہاجرین میں سے تھے۔غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ آپ اسلامی لشکر کے سب سے پہلے شہید تھے۔دو صفوں کے درمیان تھے کہ اچانک ایک تیر آپ کو لگا جس سے آپ شہید ہو گئے۔عامر بن حضرمی نے آپ کو شہید کیا تھا، اس کا تیر لگا تھا۔حضرت سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت مهجع شہید ہوئے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے۔انا مهجع والی ربی ارجع۔کہ میں موجع ہوں اور اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والا ہوں۔حضرت مهجع ان لوگوں میں شامل تھے جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدُوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ (الانعام : 53) اور تو ان لوگوں کو نہ دھتکار جو اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے صبح بھی پکارتے ہیں اور شام کو بھی پکارتے ہیں۔ان کے علاوہ اس میں مندرجہ ذیل اصحاب بھی شامل تھے۔حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت عمار ، حضرت خباب ، حضرت عقبہ بن غزوان، حضرت اوس بن خولی، حضرت عامر بن فھیرۃ۔رض (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 299-300 مهجع بن صالح مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(اسد الغابه جلد 5 صفحه 268 مهجع مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء ) ( كنز العمال جلد 10 صفحه 408- 409 كتاب الغزوات حدیث 29985 مطبوعه مؤسسة الرسالة بيروت 1985ء) اس کا مطلب یہ نہیں ہے نعوذ باللہ کہ یہ جو آیت نازل ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غریبوں کو دھتکارتے تھے۔آپ کا پیار اور عزت اور احترام اور شفقت غریبوں کے لئے بے مثال اور غیر معمولی تھی جس کا ہمیں حدیثوں سے بھی، ان غرباء کے اپنے حوالوں سے بھی پتہ لگتا ہے۔اس آیت میں اصل میں تو ان امیر لوگوں اور بڑے لوگوں کو جواب ہے جو یہ چاہتے تھے کہ ہمیں زیادہ عزت اور احترام دیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ میں نے تورسول کو یہ کہا ہوا ہے اور یہ حکم ہے کہ غریب لوگ جو ذکر اور عبادت میں بڑھے ہوئے ہیں ان کی عزت اور احترام اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری دولت اور خاندانی عزت سے زیادہ ہے اور اللہ کا رسول تو وہی کرتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ اسے حکم دیتا ہے۔پس اس آیت سے اصل میں تو ان امیروں کو یہ جواب دیا گیا جن کے خیال میں یہ تھا کہ ان کا مقام زیادہ بلند ہے کہ اللہ کے رسول کو تمہاری عزت اور تمہاری دولت کی کوئی پروا نہیں ہے۔اس کو تو یہی لوگ پیارے ہیں۔پھر حضرت عامر بن مخلد ایک صحابی تھے۔ان کی والدہ کا نام عمارہ بنت خنساء تھا۔ان کا تعلق خزرج کے قبیلے بنو مالک بن نجار سے تھا۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے اور احد کے دن یہ شہید ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 375-376 عامر بن مخلاً مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر ایک صحابی تھے حضرت حاطب بن عمرو بن عبد شمس۔ابو حاطب ان کی کنیت تھی۔ان کا تعلق قبیلہ