خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 48
خطبات مسرور جلد 16 48 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02 فروری 2018ء بمطابق 02, تبلیغ 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: لم تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيْدِ الْعِقَابِ ذِي (المؤمن: 1-4) القَوْلِ۔لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔(البقرة: 256) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ جو بے انتہا رحم کرنے والا بن مانگے دینے والا بار بار رحم کرنے والا ہے۔حمید ہے مجید ہے۔صاحب حمد صاحب مجد۔اس کتاب کا اتارا جانا اللہ کامل غلبہ والے اور کامل علم والے کی طرف سے ہے جو گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا پکڑ میں سخت اور بہت عطا اور وسعت والا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔دوسری آیت آیتہ الکرسی ہے۔اس کا ترجمہ ہے کہ اللہ ، اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔اُسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔اُسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔کون ہے جو اُس کے حضور شفاعت کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔وہ جانتا ہے جو اُن کے سامنے ہے اور جو اُن کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتناوہ چاہے۔اس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے۔ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں اور وہ بہت بلند شان اور بڑی عظمت والا ہے۔یہ آیات سورۃ المومن کی پہلی چار آیات ہیں۔یہ بسم اللہ سمیت چار آیات ہیں اور ایک آیت جیسا کہ میں نے کہا آیتہ الکرسی ہے جو سورۃ البقرۃ کی آیت ہے۔صفات الہیہ کی پر معارف تشریح: ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کی شان اور عظمت بیان کی گئی ہے۔ان آیات کی اہمیت کے بارے میں احادیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملتا ہے۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے صبح کے وقت حمد۔الموسمن سے لے کر