خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 560 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 560

خطبات مسرور جلد 16 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 کے کالم نویس نے ناصر ہسپتال کے حوالے سے ایک آرٹیکل لکھا۔ایل پیریو دیکو (El Periodico) نے رپورٹ شائع کی، نیشنل اخبار ہے۔نیشنل ٹی وی گوئٹے مالا نے میرے بارے میں خبر دی اور ہسپتال کے تعارف پر مبنی رپورٹ نشر کی۔نیشنل ریڈیو چینل پر بھی رپورٹیں آتی رہیں۔اس لحاظ سے ایک اندازے کے مطابق لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک کے پرنٹ میڈیا اور مختلف اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعہ سے تقریباً بنتیس ملین لوگوں تک ناصر ہسپتال کے افتتاح کی خبر کے حوالے سے اسلام کا پیغام پہنچا۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا ٹوئٹر، انسٹا گرام اور یوٹیوب کے ذریعہ سے تئیس لاکھ لوگوں تک یہ خبر پہنچی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر لحاظ سے یہ دورہ بڑا بابرکت و کامیاب تھا۔اللہ تعالیٰ اس کے آئندہ بھی نیک نتائج پیدا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں ایک نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا جو محترم ساوادو گو اسماعیل( Sawadogo Ismail) صاحب کا ہے جو بورکینا فاسو کے تھے۔14/ نومبر کو فجر کی نماز کے لئے گھر سے نکلے راستے میں دل کا دورہ پڑھنے کی وجہ سے گر گئے۔قریبی ہسپتال لایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔1964ء میں یہ پیدا ہوئے تھے۔1994ء میں انہوں نے احمدیت قبول کی اور ہمیشہ ان کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مشن ہاؤس کے قریب رہیں۔جب مشن ہاؤس تبدیل کیا گیا، نئی جگہ پہ ہمارا مشن ہاؤس چلا گیا تو اس کے قریب ہی انہوں نے کرائے کا گھر لے لیا۔ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ اذان دینے کے لئے مسجد میں آتے رہیں۔جلسہ سالانہ پر لوگوں کو تہجد کے لئے بیدار کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔اذان بہت عمدہ آواز میں دیتے تھے اسی وجہ سے بعض لوگ ان کو سیدنا بلال کہنے لگے۔ہر سال رمضان میں اعتکاف بیٹھتے۔نمازوں کے بہت ہی پابند اور دوسروں کو توجہ دلانے والے تھے۔فجر کی نماز سے پہلے آکر ، وہاں جماعت کا لڑکوں کا ہوسٹل ہے ، ہوسٹل کے لڑکوں کو نماز کے لئے بیدار کرتے۔اذان دیتے اور مسجد کی صفائی کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے۔جب لاہور میں مساجد پر حملہ ہوا اور شہادتوں کا سنا تو ان پر بہت زیادہ اثر ہوا۔بہت زیادہ روئے اور بار بار خواہش کا اظہار کرتے رہے کہ کاش وہ ان شہیدوں میں شامل ہوتے۔جماعتی کاموں میں ہمیشہ سب سے آگے ہوتے تھے۔2004ء میں جب میں وہاں دورے پر گیا ہوں تو وہاں بھی سکیورٹی ڈیوٹی پر ہمیشہ آگے آگے ہوتے اور ایک دفعہ وہاں ایک تقریب کے دوران جب میں تقریر کر رہا تھا تو ڈیوٹی دیتے ہوئے بیہوش ہو کر گر بھی پڑے تھے۔شاید کھایا پیا کچھ نہیں تھا یا سیدھے کھڑے رہے، بہر حال اسی وجہ سے اور ہمیشہ اس حوالے سے خطوط لکھا کرتے تھے کہ میں وہی ہوں جو گرا۔بہت مخلص اور خلافت کے اور احمدیت کے سچے عاشق تھے۔پیشہ کے لحاظ سے محکمہ جنگلات میں سکیورٹی گارڈ تھے۔ان کی تدفین کے وقت سینٹرل میئر کی طرف سے محکمہ جنگلات کے کمانڈنگ افسر نے بہت اچھے پیرائے میں ان کی خدمات کو سب کے سامنے پیش کیا کہ اسماعیل وفادار مخلص اور ایماندار اور ہنس مکھ شخص تھا۔اپنے فرائض بہت عمدہ طریق پر ادا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔پسماندگان میں پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہیں جبکہ دوسری بیوی سے ایک دو ماہ کی بیٹی یاد گار چھوڑی ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے مغفرت کا سلوک فرمائے اور ان بچوں کو بھی اپنے حفظ وامان میں رکھے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 07دسمبر 2018ء تا 13 دسمبر 2018ء جلد 25 شماره 49 صفحہ 0905)