خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 556 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 556

خطبات مسرور جلد 16 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 (David) صاحب ہیں، یہ وہاں گوئٹے مالا کے پہلے احمدیوں میں سے ہیں، کہنے لگے کہ آپ کی توجہ سپین کی طرف تو ہے کہ وہاں اسلام پھیلانا ہے ، جس کی آبادی صرف چالیس ملین ہے جبکہ ہمارے ملکوں کی آبادی چار سو ملین ہے، اس طرف توجہ آپ کی نہیں ہے۔اس کے بعد سے باقاعدہ پھر وہاں بھی مشنوں کی طرف بھی توجہ ہوئی اور جامعہ کے طلباء کو بھی بھیجنا شروع کیا گیا۔اب اللہ کے فضل سے وہاں جماعتیں قائم ہو رہی ہیں۔تو بہر حال وہاں سپینش زبان میں ریویو آف ریلیجنز کا بھی اجرا کیا گیا۔یہ تو غیروں کے تاثرات تھے۔گوئٹے مالا میں مختلف ہمسایہ ملکوں کے ، سپینش بولنے والے ملکوں کے احمدی بھی شامل ہوئے تھے ہسپتال کے افتتاح کا کہہ لیں یا میری ملاقات کے لئے ، ان کے بھی بڑے جذباتی تاثرات تھے ، جو پہلی دفعہ خلیفہ وقت کو ملے ہیں اور خلافت سے محبت ان کی آنکھوں سے اور ان کے دلوں سے پھوٹی پڑرہی تھی۔میکسیکو سے آنے والی ایک نو مبائع خاتون لاؤر ا ا ملدے (Laura Matilde) صاحبہ کہتی ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے بیعت کی ہے کہ میرے اس گوئٹے مالا کے سفر کے بعد ایک بات میرے دل میں پختہ ہو گئی ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ چاہتا ہے میں وہیں پر ہوں۔میرے دل میں اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ میں روحانی اور جذباتی طور پر بہت اطمینان اور امن محسوس کر رہی ہوں۔دوسرے ممالک کے احمدی بہن بھائیوں سے مل کر بھی ایمان تازہ ہوا اور سب سے بڑھ کر خلیفہ وقت کے پیچھے نمازیں ادا کر کے میرا ایمان اللہ تعالیٰ اور احمدیت پر یعنی حقیقی اسلام پر اور بھی پختہ ہو گیا۔میری خواہش ہے کہ میں اس راستے پر قائم رہوں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔پھر میکسیکو کے ایک نو مبائع ایوان فرانسسکو (Ivan Francisco) صاحب کہتے ہیں کہ ہم نے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی۔وہاں مسجد میں بیعت کی تقریب بھی ہوئی تھی تو ایک ایسا لمحہ تھا جو کہ لفظوں میں نہیں بیان کیا جا سکتا۔اس لمحے مجھے جسمانی طور پر ایسا محسوس ہوا جیسے میر اسارا جسم گرم ہو گیا ہے اور میرے پسینے چھوٹنے لگے اور ایسا لگا جیسے ایک کرنٹ میرے جسم میں سے دوڑ رہا ہے اور جاتے جاتے اپنے ساتھ میرے تمام گناہ بھی لے گیا ہے۔خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں خلافت عطا کی ہے۔میں جانتا ہوں کہ یہ میرے لئے اچھائی کی طرف بڑھنے کا پہلا قدم ہے اور میرے اندر ایک تبدیلی لائے گا۔پھر میکسیکو سے آنے والے ایک نو مبائع میگیل آنخیل (Miguel Angel) صاحب کہتے ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام احمدیت میں کوئی بارڈر نہیں ہے نیز کسی قسم کی لکیر نہیں ہے جو ہمیں علیحدہ کر سکے۔ہم سب بھائی بھائی ہیں۔اگر فرق ہے تو زبان کا ورنہ ہم سب بھائی ہیں۔خلیفہ وقت کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے بھی بیشک ہم دس سے پندرہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ تھے مگر ہم ایک تھے اور ایک خلیفہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے۔پھر وسینتے بریونیس(Vicente Briones) صاحب کہتے ہیں میرا تعلق میکسیکو سٹی جماعت سے ہے۔جب مجھے بتایا گیا کہ گوئٹے مالا جانے کا موقع مل رہا ہے تو میں بہت خوش ہوا اور یہ سن کر کہ وہاں پر خلیفہ وقت سے ملاقات ہو گی میری خوشی اور بھی بڑھ گئی۔جب ہماری ملاقات ہوئی تو میں بہت خوش ہوا کیونکہ مجھے کافی وقت ان کے پاس بیٹھنے کا موقع ملا۔میں نے تھوڑا عرصہ پہلے میکسیکو سٹی میں بیعت کی تھی مگر ہاتھ پر بیعت کرنا میری زندگی کا