خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 554
554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 خطبات مسرور جلد 16 ازالے کے لئے صرف ایک ہی راہ ہے اور وہ یہ ہے کہ محبت قائم کرنے کے لئے جہاد کیا جائے۔نفرت کو محبت سے ختم کیا جائے۔یہ محبت ہر مذہب کے درمیان پیدا کی جانی چاہئے۔اور ایسی محبت کی بے شمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جیسا کہ آپ لوگوں کا یہ پروگرام ہے۔لیکن آجکل جو میڈیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہے اور گمراہ کن عناصر ہیں اور میڈیا ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے ہمیں اس کے بجائے باہمی محبت کو پھیلانا چاہئے۔اور یہ بڑے جذباتی تھے۔بعد میں مجھے ملے بھی تو پہلے ذرا سے جذباتی ہوئے اس کے بعد با قاعدہ رونے لگ گئے کہ اس پیغام سے بڑا مجھ پر اثر ہوا ہے۔ایک خاتون شنین صاحبہ نیو جرسی میں سرجیکل کو آرڈینیٹر ہیں کہتی ہیں کہ اسلام کی خوبصورت تعلیمات کے بارے میں دوبارہ بتایا گیا۔میرا بھی یہی نظریہ ہے کہ چند انفرادی لوگوں کی بری حرکات کی وجہ سے پورے مذہب کو ملزم ٹھہر انا اپنی ذات میں ظلم سے کم نہیں۔کہتی ہیں کہ ہمارے یہاں امریکہ میں ہر روز کوئی نہ کوئی حادثہ اور واقعہ ہو تا ہے مگر اس کے لئے پورے مذہب کو قصور وار ٹھہر انا غلط ہے۔ایک مہمان جو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ چالیس سال سے کام کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ یہ پیغام پوری دنیا کے لئے پیغام تھا۔اس میں امن اور شانتی اور پیار اور محبت اور حقوق کے حوالے سے ضرورت کے مطابق نصائح کی گئیں۔ہمارے یہاں مختلف رنگ و نسل کے چار لاکھ ساٹھ ہزار لوگ بستے ہیں اور آج کے پیغام میں سب سے اہم بات ہمسائے کے حقوق کے بارے میں تھی۔پھر ایک خاتون ڈاکٹر کمبرلے (Kimberly) جو کریمینالوجسٹ (Criminologist) ہیں اور مصنفہ بھی ہیں اور انہوں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔کہتی ہیں کہ آج کے خطاب میں امن اور انصاف کے حوالے سے بہت گہرے پیغامات سننے کو ملے۔اور رنگ و نسل میں امتیاز کے بغیر ہر ایک کو اس پیغام کے مطابق اتحاد کی فضا قائم کرنی ہو گی۔آج کے خطاب میں آپ نے اسلام کی حقیقی شکل سامنے لا کر رکھی اور اس کا خلاصہ امن و انصاف اور مساوات کا ماحول پیدا کرنا ہے۔پھر موصوفہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے جذباتی بھی ہو گئی تھیں اور آنسوؤں میں لبریز کہہ رہی تھیں کہ آجکل جو لوگ ظلم وبربریت کے مظاہرے دکھا رہے ہیں اور مذہب کے نام پر ہماری کمیونیٹیز اور ملک میں فسادات پھیلا رہے ہیں ان کا مذہب سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ جاننا ہر انسان کے لئے بہت ضروری ہے۔ایک خاتون لورین (Lorraine) صاحبہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں۔میں تیس سال سے اس علاقے میں ہوں اور یہاں کے بدلتے حالات دیکھے ہیں۔حالیہ فائرنگ کے واقعات بہت افسوسناک ہیں۔ایسے مواقع پر پیار محبت اور رواداری کا پیغام بہت ہی شاندار تھا۔مجھے بہت خوشی ہے کہ مجھے بھی یہاں مدعو کیا گیا۔مجھے یہاں آکر احمد یہ مسلم جماعت کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔مسجد اس علاقے میں ایک خوبصورت اضافہ ہے اس سے مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔یہ پر امن جگہ ہے۔میں مسلمان نہیں ہوں اور میں اس مسجد میں آئی ہوں مجھے یہاں خوش آمدید کہا گیا ہے ، یہی ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے۔میں کہنا چاہتی ہوں کہ اب آپ کے یہاں مزید پروگرام بھی ہوں گے۔ان پروگراموں میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مدعو کیا کریں۔ان مساجد کے افتتاح کے علاوہ جیسا کہ اکثر جانتے ہیں کہ گوئٹے مالا میں ہیومینٹی فرسٹ کا