خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 552

خطبات مسرور جلد 16 552 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 پھر ایک خاتون اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آجکل کے حالات میں میرے لئے اس خطاب میں بہت ہی اہم پیغام تھے۔مسلمانوں اور غیر مسلموں ، کالے اور گورے کے درمیان یہاں بہت خلیجیں حائل ہیں۔ہمیں ان سب دوریوں کا حل تلاش کرنا ہے اور یہ باہمی احترام ہی سے ممکن ہے۔اور جو آپ نے ہمسائے کی تعریف کی ہے اور جو ہمسائے سے حسن سلوک کا پیغام دیا ہے یہ میرے لئے بہت ہی شاندار تھا۔اس پیغام کو سن کر مجھے اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب ہوئی ہے۔اور آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔41 ڈسٹرکٹ کے ایک ریپریزنٹیٹیو آف سٹیٹ (Representative of State) تھے بلال علی صاحب، مسلمان تھے۔کہتے ہیں کہ آپ نے جو پیغام دیا ہے اس کی گونج یہاں تمام افراد میں سنائی دے رہی ہے۔باہمی اتحاد، یگانگت ، محبت اور پیار کی فضا قائم کرنے میں یہ پیغام بہت اہم ہے۔اسلام کے خلاف جو تحفظات پائے جاتے ہیں انہیں دور کرنے میں بہت مدد ملے گی۔پھر کہتے ہیں آپ نے بر وقت بہت سے مسائل کا حل ہمیں بتا دیا ہے خاص کر یہاں کے حالات میں جہاں کافی حد تک سیاسی طور پر جو لوگوں کے بیان ہیں ، کوششیں ہیں وہ بھی مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھار رہی ہیں۔آپ نے یہاں آکر ان امور کے حوالے سے بہت اچھی رہنمائی کی ہے۔ایسے ماحول میں بہت ہی پُر حکمت دلائل سے پر پیغام دیا ہے جس سے کوئی بھی عقل رکھنے والا انکار نہیں کر سکتا۔میں نے معاشرے میں امن قائم کرنے کا بہت آسان حل آپ سے سیکھا ہے وہ یہ کہ اپنے گھر سے شروع کریں۔ہمسائے سے حسن سلوک کریں۔آپ کو تمام دنیا کو بدلنے کی ضرورت نہیں صرف وہ افراد جن سے آپ ملتے جلتے ہیں ان میں پیار بانٹیں، ان کی خدمت کریں تو تمام معاشرہ پر امن ہو جائے گا۔پھر یہ بھی ایک آسان نسخہ آپ نے بتایا کہ اسلام کہتا ہے کہ دعوت حق کرو، اصل تو آپ کا اپنا نمونہ ہے جس سے دعوت حق ہو سکتی ہے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ بالٹی مور میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے احمد یہ مسلم جماعت میدان میں آئی ہے اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔یہ بہت ہی قابل تقلید نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو وہاں ایسا نمونہ دکھانے کی توفیق بھی دیتار ہے۔ایک مشعل (Michelle) صاحبہ ہیں پریسبیٹیرین چرچ ( Presbyterian Church) میں منسٹر ہیں کہتی ہیں کہ بڑا اچھا پیغام تھا۔آپ نے باہمی اتحاد یگانگت پر زور دیا۔خوف ختم کر کے محبت قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی۔یہ پیغام بہت اہمیت کا حامل ہے۔مسجد کے قیام کے جو مقاصد آپ نے بیان کئے یہ بہت اچھے ہیں۔پھر ہمسایوں سے حسن سلوک کی تعلیم کا بھی ذکر کیا۔میرے لئے یہ نئی چیزیں ہیں۔مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ عیسائیت میں جو پیار محبت کی تعلیم دی گئی ہے یہ تو وہی باتیں ہیں جبکہ میڈیا اسلام کے بارے میں ایک الگ چیز پیش کرتا ہے۔ایک ہسٹورین (historian) ڈاکٹر فاطمہ کہتی ہیں کہ میری سپیشلائزیشن یو ایس اے میں اسلام ہے اور اس حوالے سے میں نے یو ایس اے میں اسلام کی تاریخ پر کافی کام کیا ہوا ہے۔میں کوئی دینی سکالر نہیں ہوں بلکہ صرف تاریخ دان ہوں۔اس حوالے سے آپ نے جو یہ کہا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اس دور میں اسلام کی تجدید کی ہے میر اذہن اسی طرف لگا ہوا ہے اور میں اب اس حوالے سے مزید تحقیق کو بڑھاؤں گی۔مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ اب میری تحقیق کا محور نہ صرف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں بلکہ آپ