خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 47

خطبات مسرور جلد 16 47 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 دوسرا جنازہ ظفر اللہ خان بڑ صاحب کر تو، شیخو پورہ کا ہے۔ان کی 19 جنوری کو وفات ہوئی اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ۔پیدائشی احمدی تھے۔آپ کے والد چوہدری اللہ دتہ صاحب نے 1928ء میں احمدیت قبول کی تھی۔اپنے گاؤں کر تو ضلع شیخو پورہ میں ان کو بطور صدر جماعت خدمت کی توفیق ملی۔نماز تہجد بہت با قاعدگی سے ادا کرنے والے۔پنجوقتہ نماز ادا کرنے والے۔خطبات باقاعدگی سے سننے والے۔چندوں میں بہت با قاعدہ تھے۔طبیعت میں سادگی تھی لیکن اولاد کی تربیت کے معاملہ میں ہر باریک پہلو کو مد نظر رکھتے تھے۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور تین بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔آپ کے ایک بیٹے ساجد محمود بٹر صاحب مربی سلسلہ ہیں اور آجکل جامعہ احمدیہ انٹر نیشنل گھانا میں بطور استاد خدمت بجا لا رہے ہیں۔اپنی جماعتی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے والد کی وفات پر پاکستان نہیں جاسکے۔اللہ تعالیٰ ان کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔یہ کہتے ہیں کہ بچپن میں ہمیشہ ماں باپ نے ہماری تربیت کا خیال رکھا۔ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ مسجد لے کر جاتے تھے اور جب کوئی مہمان آتا تو بڑی خوشی سے میرا تعارف کرواتے کہ میں نے اس بیٹے کو وقف کیا ہے اور اسے جامعہ بھجوانا ہے۔کہتے ہیں اس کا یہ اثر تھا کہ کبھی میرے دل میں کسی اور تعلیم کا خیال ہی نہیں آیا اور ہمیشہ یہی خیال رہتا کہ میں نے جامعہ جانا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی نیکیاں ان کی اولاد میں بھی جاری رکھے اور جس جذبے اور احساس سے انہوں نے اپنے بیٹے کو وقف کیا تھا اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کو بھی حقیقت میں وقف کی روح کے ساتھ اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 فروری 2018ء تا 22 فروری 2018ء جلد 25 شمارہ 07 صفحہ 05 تا08)