خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 547 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 547

خطبات مسرور جلد 16 547 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 / نومبر 2018ء بمطابق 16 / نبوت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کو تحریک جدید کے نئے سال کے اعلان کی وجہ سے میں نے امریکہ اور گوئٹے مالا کا جو گزشتہ دنوں سفر کیا تھا اس کے متعلق ذکر نہیں کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان دوروں کے بڑے مثبت اثرات ہوتے ہیں۔اپنوں اور غیروں سے تعلق کے لحاظ سے بھی اور جماعتی انتظامی لحاظ سے بھی براہ راست مشاہدہ اور معلومات سے بہت سی چیزیں میرے علم میں آجاتی ہیں۔تین بڑے فائدے تو یہ ہیں کہ ان ملکوں کے پڑھے لکھے طبقے اور اثر ورسوخ والے لوگوں سے رابطہ ہو جاتا ہے ، ملاقاتوں کی صورت میں بھی اور مساجد کے افتتاح یا ریسپشن وغیرہ میں۔دوسرے میڈیا کے ذریعہ سے اسلام اور احمدیت کا تعارف اور حقیقی تعلیم لوگوں کے علم میں آجاتی ہے۔اور تیسری بڑی بات یہ ہے کہ افراد سے، افراد جماعت سے ذاتی رابطہ اور تعارف ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ان کے ایمان و اخلاص اور جو تعلق ہے موڈت واخوت کا، محبت اور بھائی چارے کا اس میں اضافہ ہوتا ہے۔خلیفہ وقت اور افراد جماعت کے آپس میں براہ راست ملنے، دیکھنے ، سننے سے غیر معمولی تبدیلی بھی پیدا ہوتی ہے اور جذبات بھی پید اہوتے ہیں۔پھر ان حالات کے مطابق جو ان ملکوں میں ہوتے ہیں براہ راست خطبات میں ان سے باتیں بھی ہو جاتی ہیں۔امریکہ میں اس سفر کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین مساجد کے افتتاح کی توفیق ملی۔اللہ تعالیٰ ان مساجد کو نمازیوں سے ہمیشہ بھرارکھے اور افراد جماعت کے اخلاص و وفا میں اضافہ فرماتا چلا جائے۔بچوں ، نوجوانوں، عورتوں، مردوں نے جہاں بھی میں جاتا رہا ہوں، پہلے فلاڈلفیا میں پھر ہیوسٹن میں پھر واشنگٹن میں ، اپنے وقت کے اکثر حصے مسجد کے ماحول میں ہی گزارے ہیں۔بچوں کے ماں باپ پھر دوسرے رشتہ دار اب بھی یہی لکھ رہے ہیں کہ آپ کے آنے سے بچوں کا یہی زور ہو تا تھا کہ جلدی مسجد چلیں اور خلافت کے ساتھ ان کا ایک تعلق کا اظہار ہو تا تھا۔اور پھر دن کا اکثر حصہ وہ مسجد میں ہی گزارتے تھے۔امریکہ میں اس دفعہ اسائلم لینے والے اور رفیوجی بن کر آنے والے پاکستانی احمدیوں کی بھی بڑی تعداد تھی جو بڑے مشکل حالات سے گزر کر ملائیشیا، تھائی لینڈ، سری لنکا اور نیپال سے وہاں آئے تھے۔ان سے ملاقات بھی بعض دفعہ بڑی جذباتی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔بعض تو بہت زیادہ جذباتی ہو جاتے تھے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان