خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 543

خطبات مسرور جلد 16 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 دعائیہ فہرست میں شامل ہو جائیں۔اکثر وہ قرض لے کر ادا ئیگی کرتیں اور پھر بعد میں قرض اتارنے میں لگی رہتیں۔جب مسجد بشارت سپین کی تحریک ہوئی تو انہوں نے اپنی بالیاں جو ان کا اکلوتا زیور تھا پیش کر دیا جس کی وجہ سے سسرال سے بھی کافی باتیں سننی پڑیں۔یہ خاتون کہتی ہیں کہ اس وقت میرا بچپن تھا اور میں سمجھتی تھی کہ اس طرح اپنے آپ کو تنگی میں ڈال کر قربانی کرنا ٹھیک نہیں ہے اور یہی نظریہ میرے دماغ میں بیٹھ چکا تھا۔گزشتہ سال تحریک جدید کے حوالے سے جب تحریک ہوئی تو میں نے سوچا کہ میں اپنی ماں کی طرح نہیں بنوں گی جو اس طرح تحریک پر سب کچھ پیش کر دیتی ہیں اس لئے میں نے بظاہر عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیس یا پینتیس یوروکا وعدہ کیا۔کہتی ہیں خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کے کچھ عرصے بعد ہی میری گردن میں دو گلٹیاں نکل آئیں جس سے مجھے بہت خوف لاحق ہو گیا۔ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا۔اس وقت مجھے نہ اپنا زیور اچھا لگتا تھا نہ کپڑے۔ایک دن میرا ایک خطبہ سنا جس میں میں نے خواتین کی مالی قربانیوں کا ذکر کیا تھا تو کہتی ہیں خلیفہ وقت کا خطبہ سن کے میرے دل میں خیال آیا اور پھر اپنا سارا زیور جو ہے وہ تحریک جدید میں ادا کر دیا، میں نے اس کی قیمت لگوائی اور ادا کر دیا۔اس کے بعد دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ گلٹیاں بے ضرر ہیں۔کہتی ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس خوف سے نجات دی۔میں سمجھ گئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے میرے متکبرانہ رویے کی سزا دی تھی چنانچہ اب میرے دل میں اس قسم کی بدظنیاں نہیں ہیں۔میرے میاں کو ایک ہوٹل میں کام کرنے کی وجہ سے چندے دینے پر پابندی تھی۔میں نے دعا کی اللہ تعالیٰ میرے میاں کو اچھاروزگار عطا فرمائے تو پانچ سو یورو تحریک جدید میں ادا کروں گی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میرے میاں کو معجزانہ رنگ میں اچھا کام عطا فرما دیا اور اب دونوں میاں بیوی چندہ دیتے ہیں۔لاہور کی سیکرٹری تحریک جدید لجنہ لکھتی ہیں کہ واپڈا ٹاؤن کی ایک ممبر عرصہ ڈیڑھ سال سے سانس کی شدید تکلیف میں مبتلا تھیں۔مرکزی نمائندے کے دورے کے دوران انہوں نے اپنا چندہ تحریک جدید میں مزید پچاس ہزار روپے کا اضافہ کیا۔خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل فرمایا اور وہ بیماری جو باوجود علاج کے بار بار حملہ کرتی تھی یہ کیفیت یکسر بدل گئی اور اب سال کے اختتام پر مکمل صحتیاب ہیں۔امیر صاحب گیمبیا لکھتے ہیں کہ ایسٹ ڈسٹرکٹ کے گاؤں جزا کے ایک دوست باقاعدگی سے تحریک جدید کا چندہ ادا کیا کرتے تھے۔اب حال ہی میں ان کے گاؤں میں جانوروں کی ایک بیماری پھوٹ پڑی جس کی وجہ سے گاؤں کے جانور مرنے لگے اور تقریباً تمام لوگ اپنے اپنے جانوروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سامبا صاحب کا ایک جانور بھی نہیں مرا۔سارے گاؤں والوں نے پوچھا کہ تمہارا کوئی جانور نہیں مرا اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہر سال اپنے جانوروں میں سے ایک جانور بیچ کر چندہ ادا کر دیتا ہوں اور اسی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو بیماری سے محفوظ رکھا ہے۔اس پر گاؤں کے دیگر سات لوگوں نے بھی جو احمدی تھے تحریک جدید کا چندہ ادا کر دیا۔انہوں نے دیکھا کہ ان کے جانوروں کی صحت بھی بہتر ہونے لگ گئی ہے اور جبکہ جانور کے ویٹرنری (veterinary ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کوئی جانور بھی اس بیماری سے زندہ نہیں رہے گی۔چند دن کے بعد جب ویٹرنری ڈاکٹر دوبارہ آیا تو اس نے جانوروں کا معائنہ کیا اور کہنے لگا تم لوگوں نے کیا طریقہ علاج کیا ہے جس سے یہ جانور ٹھیک