خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 542

خطبات مسرور جلد 16 542 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 کے چندہ ادا کر دوں گا۔وہ قربانیاں جو پرانے زمانے میں نظر آتی تھیں اب بھی ان کے نمونے ملتے ہیں۔کہتے ہیں چنانچہ انہوں نے ایک دو روز کے اندر ہی اس کا پھل ایک ہزار برونڈی فرانک میں فروخت کیا اور ساری رقم چندے میں ادا کر دی۔بعد میں انہوں نے بتایا کہ میں نے جو پھل فروخت کر کے چندہ ادا کیا تھا اس کی وجہ سے بہت زیادہ برکت پڑی ہے اور اب اس درخت کو پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ پھل لگا ہے جو چالیس سے پینتالیس ہزار برونڈی فرانک میں فروخت ہوا ہے۔کو نگو برازویل کے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دوست ماویلی صاحب کا بچہ کافی دنوں سے بیمار چلا آرہا تھا۔جب ان کے پاس چندے کی تحریک کے لئے گئے تو انہوں نے ادائیگی کر دی اور ساتھ ہی دعا کی کہ اے خدا اس چندے کی برکت سے میرے بچے کو شفا دے دے۔یہ دوست بیان کرتے ہیں کہ چند دن بعد ہی میرے بچے کی صحت بحال ہو گئی اور میں خود حیران ہو گیا کہ کس طرح ہمارا خدا دعا قبول کرتا ہے اور ہماری حقیر قربانیوں کو بھی قبول فرمالیتا ہے۔سیکرٹری تحریک جدید لجنہ کینیڈا لکھتی ہیں کہ ایک بہن نے بتایا کہ ان کے خاوند نے تحریک جدید میں ایک ہزار ڈالر کا وعدہ کیا تھا مگر کافی عرصہ سے بیروز گار تھا اس لئے ادائیگی نہیں ہو سکی۔سال ختم ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا تو سیکر ٹری صاحب مال ان کے گھر چندہ لینے آئے۔ان کے خاوند اندر گئے اور بیگم سے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اب کیا کریں ؟ اس پر اس خاتون نے کہا کہ ان کو خالی ہاتھ تو جانے نہیں دے سکتے۔اس کے پاس ایک ہزار ڈالر کی سیونگ تھی اس سے چندہ ادا کر دیا۔اور کہتی ہیں چندے کی برکت سے اسی ہفتے کے اندر ان کے خاوند کو سات ہزار ماہانہ کی جاب مل گئی۔آئیوری کوسٹ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ سان پید رو میں ایک طفل ہیں جس کی عمر صرف 14 سال ہے۔اس بچے کے والد نے بتایا کہ اتوار کو میں نے اپنے بیٹے کو ایک گھریلو کام کے لئے کہا تو اس نے جواب دیا کہ میں اطفال الاحمدیہ کی عاملہ میں بطور سیکرٹری مال چندہ اکٹھا کرتا ہوں اور میں نے خود ابھی تک چندہ ادا نہیں کیا۔چونکہ باقی دن سکول جانا ہو تا ہے اس لئے آج میں کسی کے کھیت میں جا کر کام کرنا چاہتا ہوں۔کوئی مزدوری کروں گا تا کہ جور قم ملے اس سے چندہ ادا کر سکوں۔اس پر والد نے بیٹے کو کہا کہ میں تمہاری طرف سے چندہ ادا کر دیتا ہوں۔اس پر ان کے بیٹے نے جواب دیا کہ مربی صاحب نے کہا تھا کہ بچے اپنی جیب خرچ سے چندہ ادا کیا کریں لیکن اس دفعہ میں اپنی جیب خرچ سے ادا نہیں کر سکا اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آج کام کروں تا کہ جو رقم ملے اس سے چندہ ادا کروں۔چنانچہ اس نے کام کیا اور اس رقم سے چندہ ادا کیا۔تو یہ سوچ ہے بچوں میں ، دور دراز رہنے والوں میں ، نئے شامل ہونے والوں میں جو اللہ تعالیٰ پیدا فرما رہا ہے۔جرمنی کے سیکرٹری تحریک جدید کہتے ہیں کہ کیل جماعت کی ایک خاتون نے بتایا کہ میری والدہ پاکستان میں کلسیاں بھٹیاں میں ، سکول کی ٹیچر تھیں اور بہت مالی قربانی کیا کرتی تھیں۔اکثر جب عید آتی تو بچوں کو نئے کپڑے مل رہے ہوتے تھے لیکن میری والدہ کی کوشش ہوتی کہ رمضان میں تحریک جدید کی سو فیصد ادائیگی کر کے