خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 541
541 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 خطبات مسرور جلد 16 جماعت سے مجھے بڑا پیار اور محبت ملی۔میر ا نکاح بھی ایک احمدی سے ہو گیا۔کچھ عرصہ بعد میرے خاوند کی گاڑی کو حادثہ ہو گیا اور بائیں ٹانگ اور بائیں پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔کہتی ہیں اس وقت میں چار ماہ کی حاملہ بھی تھی۔اسی دوران تحریک جدید کا نیا سال شروع ہو رہا تھا۔میں نے اپنے خاوند سے وعدہ پوچھا تو انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ جواب دیا کہ پانچ لاکھ انڈونیشین روپیہ لکھوا دو کیونکہ اگلے سال مجھے ملازمت مل جائے گی۔انڈو نیشین روپے کی بڑی کم ویلیو ہے لیکن بہر حال جو وہاں رہنے والے ہیں ان کے لئے وہ کافی ویلیو ر کھتا ہے۔وہ خاتون کہتی ہیں مجھے بڑی حیرانی ہوئی کہ ابھی لاٹھیوں کے سہارے سے چلتے ہیں ملازمت کیسے مل جائے گی۔بہر حال ان کے کہنے کے مطابق میں نے وعدہ لکھوا دیا۔وقت تیزی سے گزر گیا۔ہمیں پتہ نہیں چلا سال ختم ہونے والا تھا۔بڑی پریشانی ہوئی کہ ابھی میرے خاوند بے روز گار ہیں چندہ کہاں سے ادا کریں گے۔اسی پریشانی کی حالت میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت دکھائی اور کہتی ہیں کہ میرے خاوند کو ایک پرائیویٹ کمپنی میں اچھی ملازمت مل گئی اور ہم نے وعدے کے مطابق سو فیصد ادا ئیگی کر دی۔انڈونیشیا سے ہی واردی صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ رمضان میں ہماری فیملی ایک مشکل میں مبتلا تھی۔میرے سسر بیمار ہو گئے۔انہیں ہسپتال داخل کروایا گیا۔ایک مہینہ تک ہسپتال میں زیر علاج رہے۔اسی دوران انکی حالت اس قدر تشویشناک ہو گئی کہ آئی سی یو میں داخل ہونا پڑا۔بچنے کی امید بہت کم تھی۔کہتے ہیں اس وقت ان کو میر اخطبہ یاد آیا جو تحریک جدید کی برکات کے بارے میں تھا۔چنانچہ سب گھر والوں نے اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ ہم سب نے اسی ماہ رمضان میں تحریک جدید کی سو فیصد ادائیگی کرنی ہے اور عملاً سو فیصد ادا ئیگی کر دی۔اور مجھے بھی انہوں نے لکھا دعا کے لئے۔کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دعاؤں کے نتیجہ میں اور قربانی کے نتیجہ میں میرے سسر کی حالت بہتر ہونے لگی اور ہوتی چلی گئی اور چند دن بعد ڈاکٹر نے ان کو گھر واپس جانے کی اجازت دے دی۔گھر پہنچ کر جب پڑوسیوں کو پتہ چلا کہ یہ تو بالکل ٹھیک ہو گئے ہیں تو ان کو بڑی حیرانی ہوئی یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر تشویشناک بیماری کی وجہ سے موت کے دروازے پہ پہنچنے والا ایک انسان ٹھیک ہو کر واپس آگیا۔یوکے سے برمنگھم سینٹرل جماعت کے صدر لکھتے ہیں کہ ہم تحریک جدید کے ٹارگٹ سے پندرہ سو پاؤنڈ پیچھے تھے اور وقت ختم ہونے میں ، کلوزنگ میں چند گھنٹے باقی تھے۔مختلف احباب کو تحریک کی تو ایک دوست جو پہلے چو ہمیں سو پاؤنڈ دے چکے تھے انہوں نے کہا کہ وہ پندرہ سو پاؤنڈ ادا کر دیں گے۔اس وقت یہ دوست ملک سے باہر تھے انہوں نے آن لائن ہی چندہ ادا کر دیا۔کہتے ہیں کہ جس دن انہوں نے پندرہ سو پاؤنڈ ادا کئے تھے اس کے اگلے روز ہی ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے انہیں چھ ہزار پاؤنڈ واپس مل گئے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فوری چار گنا بڑھا کے دے دیا۔غریبوں کی قربانیاں کیسی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حیرت انگیز سلوک کیا ہے اس بارے میں برونڈی کے معلم صاحب لکھتے ہیں کہ گزشتہ سال ہم نے ایک نئی جماعت گہا نگا کا دورہ کیا اور وہاں ایک نئے نو مبائع دوست مسعودی صاحب کو چندے کی اہمیت کے متعلق بتایا اور انہیں چندے کی تحریک کی۔مسعودی صاحب کہنے لگے کہ میرے پاس اس وقت تو کچھ نہیں ہے لیکن ہمارے گھر میں ایک پھل دار درخت ہے۔میں اس درخت کا پھل فروخت کر