خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 46

خطبات مسرور جلد 16 46 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ان کے والد کو خط لکھا کہ میں پاکستان میں تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ کو عزیز نعمت اللہ پر کسی سبب سے کچھ خفگی ہے۔کہتے ہیں مجھے تو نہیں معلوم کس وجہ سے خفگی ہے۔بہر حال میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کو معلوم ہے کہ جتنا عرصہ عزیز نعمت اللہ انگلستان میں رہا۔یہاں وہ پڑھنے کے لئے آئے تھے جب چوہدری صاحب بھی یہاں ہوتے تھے۔میں جب بھی انگلستان گیا وہ مجھ سے ملتا رہا اور جب وہ اپنی بیماری کے عرصہ میں سوئٹزرلینڈ میں تھا تو وہاں بھی ملاقات ہوتی رہی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب لکھتے ہیں کہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے عزیز کو ہر طرح سے فرمانبردار، متواضع، شریف الطبع ، خوش اخلاق اور مخلص معاون پایا۔اس کے حسن اخلاق اور اس کی طبیعت کی شرافت پر آپ کو اس کا باپ ہونے کے لحاظ سے بجا طور پر فخر ہونا چاہئے۔پھر لکھتے ہیں کہ جتنا عرصہ باہر رہا نہایت نیک رہا اور میری طبیعت اس سے بہت خوش رہی۔میں متواتر اس کے لئے دعا کرتارہتا ہوں اور اب بھی ہر نماز میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں۔لکھتے ہیں کہ نہایت سچائی سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے تینوں عزیزوں میں سے جو اس عرصے میں انگلستان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے (کہتے ہیں کہ) عزیز نعمت اللہ ان تینوں میں سب سے زیادہ نیک اور شریف طبیعت ہے۔پھر ان کے دفتر نظامت جائیداد کے ایک مختار عام لکھتے ہیں کہ کبھی ان کا افسروں والا رویہ نہیں تھا بلکہ ہمیشہ شفیق بزرگ ہی انہیں پایا۔نہایت درجہ کا عجز و انکسار تھا۔بڑی درویش صفت طبیعت تھی۔دنیاوی طور پر نہایت کامیاب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے مگر اس کے باوجود کمال کی عاجزی تھی اور افسران کے ساتھ تعلق میں نہایت درجے کے مؤدب اور احترام والا تعلق تھا۔افسران کا چاہے عمر میں چھوٹا ہی کیوں نہ ہوتا بڑی عزت اور احترام کرتے۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے اور بڑا صحیح لکھا ہے کہ وقف زندگی کی منظوری کے بعد وہ اپنی ذات کو مٹا چکے تھے۔انانیت کا کوئی پہلوان کی ذات میں نظر نہیں آتا تھا۔کہتے ہیں اکثر میں دفتر میں جب بھی آپ کے پاس حاضر ہو تا تو آپ ذکر الہی میں مشغول ہوتے۔کہتے ہیں جہاں نظام جماعت کی بات آتی تو تمام تعلقات اور رشتوں کو ایک طرف رکھ دیتے۔ویسے بڑے رشتوں کو نبھانے والے تھے۔کہتے ہیں ربوہ میں کسی احمدی نے جماعت کی جگہ پر قبضہ کر لیا تھا اور لوگوں کو یہ تاثر دینا شروع کر دیا کہ چوہدری صاحب سے میری رشتہ داری ہے اور مجھے کوئی کچھ نہ کہے۔چوہدری صاحب کو جب معلوم ہوا تو بڑی سختی سے اس شخص سے پیش آئے۔کہتے ہیں ایسی سختی انہوں نے پہلے کسی اور سے نہیں کی جتنی اس اپنے رشتہ دار سے کی حالانکہ اور بھی ناجائز قابضین تھے۔یہ کہتے ہیں کہ ایک بار مجھے چوہدری صاحب نے بتایا کہ میں نے ساری زندگی کبھی اپنی اہلیہ سے لڑائی نہیں کی۔خلافت کا ذکر ہو تا تو آنکھوں میں چمک آجاتی۔ایک دفعہ ان کے ایک بیٹے کا کہیں رشتہ ہوا تو ان کو کسی ذریعہ سے پتا لگا کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع کو یہ رشتہ پسند نہیں ہے۔تو انہوں نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ میں تمہیں یہ تو نہیں کہتا کہ رشتہ توڑ دو۔ختم کر دو۔زبر دستی نہیں کر سکتا۔لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ جب مجھے یہ پتالگ گیا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الرابع کو پسند نہیں تو میں اس شادی میں شامل نہیں ہوں گا۔تو پھر بیٹے نے خود ہی وہ رشتہ ختم کر دیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔