خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد 16 540 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 تھا کہ اللہ تعالیٰ چو میں گھنٹے بھی گزرنے نہیں دے گا اور انتظام کر دے گا۔جرمنی کے سیکرٹری تحریک جدید ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک دوست اپنے اسائلم کیس کی وجہ سے مشکلات کا شکار تھے۔انہیں مالی قربانی کی طرف اور چندہ تحریک جدید کی طرف توجہ دلائی گئی۔اس کے چند دن بعد ہی دوست ملے اور انہوں نے بتایا کہ آپ نے اس طرح مجھے چندہ تحریک جدید کی طرف توجہ دلائی تھی۔میں نے سو یورو کا وعدہ کیا تھا۔اس وقت میرے پاس صرف ہیں یورو تھے چنانچہ میں نے وہ ہمیں یورو اسی وقت ادا کر دیئے اور گھر چلا گیا۔گھر پہنچا تو جہاں میں پہلے کام کرتا تھا وہاں سے فون آیا کہ تمہارے حساب میں کچھ پیسے بنتے ہیں وہ آکر لے جاؤ۔میر اخیال تھا کہ تین یا چار سو یورو ملیں گے لیکن وہاں سے جو پیسے ملے میں نے بغیر گنے ہی اسے جیب میں ڈال لیا اور سب سے پہلے میں نے تحریک جدید کے بقیہ اسی یورو ادا کئے پھر باقی ضروریات کے لئے پیسے نکالے۔اس کے بعد بھی کچھ ر کچھ رقم بچ گئی۔جب بعد میں حساب کیا تو پتہ چلا کہ وہاں سے ایک ہزار یورو ملا تھا۔کہتے ہیں میں نے ایک سو یورو کا وعدہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں دس گنا عطا فرما دیا۔پہلے میں اس قسم کے واقعات سنا کر تا تھا اور سوچتا تھا کہ اللہ تعالیٰ واقعی اپنے بندوں سے ایسا سلوک کرتا ہے لیکن اب مجھے خود تجربہ ہو گیا۔آئیوری کوسٹ سے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ وہاں تحریک جدید کے چندہ کے سلسلہ میں ایک جگہ گئے، نو مبائع جماعت ہے، ایک سال قبل ہی بیعت کر کے نظام میں یہ سارے لوگ شامل ہوئے ہیں۔اس گاؤں میں تحریک جدید کی اہمیت پر تقریر کی گئی، اس کے مقاصد بیان کئے گئے اور مزید یہ بتایا کہ خلیفہ المسیح نے کہا ہے کہ تمام افراد اس برکت میں حصہ لیں۔اگلے دن فجر کی نماز کے بعد احباب جماعت نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دینا شروع کیا اور امام صاحب مسجد نے بھی اس کار خیر میں حصہ لیا اور اپنی فیملی کی طرف سے بھی تحریک جدید کا چندہ ادا کیا۔پھر بعد میں ان کا چھ سالہ بیٹا اپنے والد سے سو فرانک سیفہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ یہ میر اچندہ ہے۔کہتے ہیں ہمیں اس چھوٹے سے بچے کی اس ادا پر بڑا پیار آیا کہ چھوٹی سی عمر میں مالی قربانی کا کس قدر شوق ہے۔اللہ تعالیٰ ان نومبائعین کی قربانیوں کو قبولیت کا شرف بخشے اور دین ودنیا کی حسنات سے نوازے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ ذکر کیا ہوا ہے کہ ایک موقع پر ایک مولوی نے مسجد میں مالی قربانی کی تحریک کی تو وہاں اس کی بیوی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔یہ سن کر اس پہ بڑا اثر ہوا اور گھر آکر اس نے بھی اس مقصد کے لئے، مسجد کے لئے اپنا زیور اتار کر دیا۔مولوی نے کہا یہ تو صرف لوگوں کے لئے تھا تمہارے لئے (ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 264-265) نہیں ہے۔تم قربانی نہ کرو۔لیکن یہاں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پیدا ہو رہی ہے اس میں خود مولوی بلکہ ان کے بچے بھی جوش و خروش سے حصہ لے رہے ہیں۔انڈونیشیا کی ایک مثال ہے، وہاں کی ایک خاتون صوفیہ صاحبہ لکھتی ہیں کہ میں 2014ء میں عیسائیت سے بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئی تھی اور بیعت کے بعد میری عیسائی فیملی کی طرف سے مخالفت شروع ہو گئی۔مجھے گالیاں دی گئیں۔میری توہین کی جاتی تھی۔گھر والے سمجھتے تھے کہ میں ان کی فیملی کا حصہ نہیں رہی لیکن