خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 539 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 539

خطبات مسرور جلد 16 539 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 تحریک کی گئی تو انہوں نے مزید ادائیگی کا وعدہ تو کر لیا لیکن کہنے لگے کہ فی الحال کام نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ تنگ ہے۔اس کے بعد صدر صاحب کا فون آیا کہ میں نے دس ہزار فرانک سیفہ چندہ دینا ہے اس کی رسید کاٹ دیں۔کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس وعدے کے بعد بڑا فضل کیا اور مجھے کام مل گیا اور اب میں دس ہزار چندہ دینے آرہا ہوں۔اور کہتے ہیں اس ادا ئیگی کے کوئی پندرہ دن بعد دوبارہ ان کا فون آیا کہ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ فضل ہوا ہے اور اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سمجھ نہیں آرہی کہ شاید وقت پر کام مکمل بھی کر سکوں یا نہیں۔بہت بڑا کام مل گیا ہے اور یہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کرنے کی بدولت ہے۔گویا یہاں اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق کئی گنا بڑھا کر عطا فرمارہا ہے اور فوراً عطا فرما رہا ہے۔مالی سے سیگور یجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک نابینا عورت نے کچھ چندہ بھجوایا اور ساتھ ہی پیغام بھجوایا کہ وہ آئندہ سے ہر ماہ اپنا چندہ مشن ہاؤس بھجوایا کرے گی۔اس سے وجہ پوچھی تو کہنے لگی، بعض لوگوں سے اللہ تعالیٰ خود بھی ان کو توجہ دلا کے قربانی کرواتا ہے تاکہ مزید نوازے۔کہتی ہیں کہ میں نے دو دن پہلے خواب میں دیکھا کہ میں سو رہی ہوں ، اور خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے جگا کر چندہ ادا کرنے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ میں خواب میں اٹھ کر مشن ہاؤس گئی اور وہاں پانچ ہزار سیفہ ادا کیا اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔بورکینا فاسو سے مبارک منیر صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ بیگو جماعت کے ایک مخلص احمد ی الحاج ابراہیم کے دو بچے کچھ عرصہ سے بیمار تھے۔کافی علاج کروایا لیکن بہتری نہیں ہو رہی تھی۔ایک دن ہمارے معلم صاحب نے انہیں مالی قربانی کی تحریک کی تو انہوں نے اپنی استطاعت کے مطابق چندہ دیا اور دعا کی کہ اے اللہ میری قربانیوں کو قبول فرما اور میری اولاد کو جلد صحت یاب کر دے۔کہتے ہیں کہ چند دن بعد ہی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے بچوں کی حالت کافی حد تک بہتر ہونے لگی۔ایک بچہ تو بالکل ٹھیک ہو گیا ہے اور دوسرے بچے میں کافی حد تک بہتری ہے۔ان کو بھی یہ یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قربانی کو قبول فرماتے ہوئے یہ برکت عطا فرمائی۔بورکینا فاسو بوبو شہر کے سیکرٹری وصیت کہتے ہیں کہ میں وصیت کا چندہ تو ہر ماہ ادا کر دیتا تھا مگر تحریک جدید اور وقف جدید میں کبھی کبھی تاخیر ہو جایا کرتی تھی۔ایک بار جب انہوں نے میر اخطبہ سنا تو اس کے بعد دل میں خیال آیا کیوں نہ سال ختم ہونے سے پہلے ہی تمام چندہ ادا کر دوں۔چنانچہ چندہ ادا کرنے کے بعد ایک رات خواب میں دیکھا کہ ایک سفید لباس میں ملبوس آدمی مجھے کوئی چابی پکڑا رہا ہے۔مجھے اس وقت تو خواب کی سمجھ نہیں آئی لیکن چند دن بعد میرے بھائی کی طرف سے پیغام آیا کہ آپ حج کرنے کی تیاری کریں میں تمام اخراجات آپ کے دوں گا۔اس طرح مالی قربانی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے حج کرنے سعادت نصیب فرمائی۔جرمنی کے سیکرٹری تحریک جدید لکھتے ہیں کہ بور کن (Borken) جماعت کے ایک دوست نے تحریک جدید کے چندے میں نو سو یورو کا اضافہ کیا۔یہ دوست بتاتے ہیں کہ جس روز میں نے وعدہ کیا اس سے اگلے دن جب میں فرم میں گیا تو مالک نے کہا میں نے تمہاری تنخواہ میں سویورو کا اضافہ کر دیا ہے۔اور فروری سے اکتوبر تک حساب لگایا تو کل نو سو یورو بنتے ہیں۔یہ دوست کہتے ہیں مجھے یہ تو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کا انتظام کر دے گالیکن یہ نہیں پتہ