خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 536

خطبات مسرور جلد 16 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 پھر گیمبیا کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ نیا می ڈسٹرکٹ کے ایک گاؤں میں تحریک جدید کے حوالے سے پروگرام منعقد کیا گیا اور اس میں بتایا گیا کہ خلیفہ وقت نے یہ کہا ہے کہ تمام نو مبائعین اس تحریک کا حصہ بنیں۔چنانچہ وہاں موجود تمام لوگوں نے چندہ جات کی ادائیگی کی۔ایک خاتون کو جا بائے صاحبہ نے بتایا کہ انہوں نے اجلاس کے دوران میں ڈلاسی (Dalasi) چندہ ادا کیا تھا۔ان کے پاس اس وقت صرف میں ڈلاسی ہی تھے جو انہوں نے مشکل وقت کے لئے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے۔وہ بیان کرتی ہیں کہ جب وہ گھر پہنچیں تو ان کے ایک مہمان نے انہیں پانچ سو ڈلاسی تحفہ دے دیئے۔چنانچہ انگلی صبح وہ دوبارہ مسجد آئیں اور مزید پچاس ڈلاسی چندے میں ادا کر دیئے اور کہنے لگیں کہ یہ پیسے مجھے صرف چندے کی برکات کی وجہ سے ہی ملے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا لوٹانے کا وعدہ جو ہے وہ بھی ان کے ایمان وایقان میں ترقی کا باعث بنتا ہے۔گو انہوں نے قربانی اس نیت سے نہیں کی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ فور آلو ٹا کے دے گا یا فوری طور پر مل جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھی ادھار نہیں رکھا۔پھر بین کے ریجن بو سیکوں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ یہاں اس شہر میں جماعت کے سیکرٹری مال کا جو روزی کمانے کا ذریعہ تھا وہ ایک تین پہیوں والی موٹر سائیکل یا موٹر سائیکل رکشہ تھا جو چوری ہو گئی۔اور افریقہ میں عموماً جو چیز چوری ہو جائے اس کا ملنا ایک ناممکن سی بات ہے۔جب ان کے دوست احباب ان سے ملنے آتے اور چوری کاسن کر افسوس کا اظہار کرتے تو تو گل کی حالت دیکھیں ان کی وہ کہتے کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پورا بھروسہ ہے۔کیونکہ میں ایک غریب آدمی ہوں اور اس موٹر سائیکل کے ذریعہ کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں اور وقت پر اپنا چندہ ادا کرتا ہوں اس لئے شاید کسی کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہے تو اللہ تعالیٰ نے عارضی طور پر اس کے لئے انتظام کر دیا ہے تا کہ وہ اپنی ضرورت پوری کر کے مجھے واپس کر جائے۔یہ بات سن کر لوگوں کو خیال ہوا کہ شاید ان کو چوری کا بہت زیادہ صدمہ ہوا ہے اور اس وجہ سے ان کے دماغ پر تھوڑا اثر ہو گیا ہے۔بہر حال انہوں نے ملکی قانون کا تقاضا پورا کرنے کے لئے پولیس میں بھی رپورٹ کر دی اور آرام سے گھر بیٹھ گئے۔کہتے ہیں دو ہفتے گزرے تھے کہ ان کا ہمسایہ جو خود بھی موٹر سائیکل ٹیکسی یا رکشہ چلاتا تھا اس نے غنیوں صاحب کو فون کیا کہ میں نے آپ کا موٹر سائیکل دیکھا ہے، رکشہ دیکھا ہے لیکن اس کا رنگ تبدیل کیا گیا ہے۔چنانچہ اس پر پولیس کو اطلاع دی گئی تو پولیس نے دونوں مالکوں کو موٹر سائیکل کے اصل پیپر لے کر پولیس سٹیشن حاضر ہونے کا کہا۔تحقیق کرنے پر اس شخص کے کاغذات جو تھے وہ جعلی نکلے۔اس پر پولیس نے اس شخص کو کہا کہ دو دن میں موٹر سائیکل مرمت کر وائے اور اس کا رنگ پہلی شکل میں لے کر آئے اور مالک کے سپر د کرے۔اور اس طرح پھر یہ موٹر سائیکل ان کی واپس ہو گئی۔وہ موٹر سائیکل لے کر فورا مشن ہاؤس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ابھی میر اتحریک جدید کا چندہ ادا ہونا باقی ہے۔میں اب کام کی تلاش میں جارہا ہوں اور اس ہفتے میں جو منافع آئے گا وہ چندے میں ادا کر دوں گا کیونکہ چندے کی برکت سے ہی یہ موٹر سائیکل مجھے واپس ملی ہے۔چنانچہ انہوں نے ایک ہفتے میں بارہ ہزار فرانک سیفہ کما کر چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیا۔یہ بھی اللہ تعالیٰ پر توکل اور ایمان کی عجیب مثال ہے۔انڈیا سے انسپکٹر تحریک جدید شہاب صاحب لکھتے ہیں کہ جماعت احمد یہ چھنا گنٹا کی ایک لڑکی صوفیہ بیگم