خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 535 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 535

خطبات مسرور جلد 16 535 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 قربانیاں کر رہے ہیں اور ان معیاروں پر بھی پورا اتر رہے ہیں اور ان وعدوں سے بھی حصہ لے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمائے ہیں۔یہ معیار اللہ تعالیٰ کے فضل سے آج صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے قائم کردہ اس جماعت میں ہی نظر آتے ہیں جس کی چند مثالیں اس زمانے کی میں پیش کرتا ہوں۔یہ واقعات دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے لوگوں کے ہیں جو اس عہد کو نبھارہے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے اپنامال پیش کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔چنانچہ پہلے کیمرون کا ایک واقعہ ہے۔وہاں کے معلم لکھتے ہیں کہ جب ہم ویسٹرن ریجن کی ایک جماعت مار تا میں چندہ تحریک جدید کے سلسلہ میں گئے تو وہاں کے چیف سالہام عثمان صاحب نے گاؤں کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور کہنے لگے کہ جماعت کے معلم صاحب چندہ تحریک جدید کے لئے آئے ہیں اور سب اس مالی قربانی میں حصہ لیں۔چیف کہنے لگے کیونکہ آج سے دو سال قبل میں اکیلا یا بعض اوقات دو یا تین آدمی میرے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتے تھے لیکن جب سے اس گاؤں میں جماعت احمد یہ قائم ہوئی ہے اور ہم نے اس جماعت کو قبول کیا ہے تب سے ہماری مسجد نمازیوں سے بھر نے لگ گئی۔اور بعض اوقات تو نمازیوں کو مسجد کے اندر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے باہر نماز پڑھنی پڑتی ہے۔وہ کہنے لگا یہ نمایاں تبدیلیاں صرف اور صرف جماعت احمدیہ کے یہاں آنے سے آئی ہیں۔اس لئے ہمیں جماعت کی ہر تحریک میں حصہ لینا چاہئے۔یہ انقلاب جو احمدیت کے ذریعہ سے ان میں آرہا ہے کہ عبادتوں میں بڑھ رہے ہیں اور مالی قربانیوں میں بھی بڑھ رہے ہیں یہ ایک عجیب انقلاب ہے۔اور یہ ان سب پر انے احمدیوں کو بھی توجہ دلانے والا ہے جن کی توجہ عبادتوں کی طرف بھی کم ہے اور باوجود حالات اچھے ہونے کے مالی قربانیوں کی طرف بھی کم ہے۔پھر کیمرون کے ایک معلم ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ کیمرون کے انتہائی شمال میں واقع جماعت ماڈیبو میں تحریک جدید کے چندہ کی تحریک کے لئے گئے اور گھر گھر جا کر نو مبائعین کو چندے کی تحریک کی۔اس پر ایک احمدی عثمان صاحب نے بیان کیا کہ آپ جب پچھلی دفعہ چندہ کے لئے تحریک کر کے گئے تھے تو میں نے نیت کی تھی کہ دس ہزار فرانک سیفہ (CFA Frank) ادا کروں گا اور مکئی بھی دوں گا۔اس کے چند دن بعد میرے بیٹے نے کہا کہ وہ کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں نوکری کے لئے انٹرویو پر جانا چاہتا ہے لیکن اس کے لئے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے۔وہاں بھی تیسری دنیا کے بعض ملکوں کی طرح نوکریاں لینے کے لئے افسروں کو بھی کچھ دینا پڑتا ہے۔تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں تو غریب آدمی ہوں۔میں تو اتنی بڑی رقم کا انتظام نہیں کر سکتا۔میرے پاس تو دس ہزار فرانک سیفہ ہے اور یہ میں نے تحریک جدید میں ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے اس لئے تم جاؤ اور نوکری کا انٹر ویو دے دو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔عثمان صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے وہ رقم چندہ میں ادا کر دی اور اس کے چند روز بعد ہی میرے بیٹے کا شہر سے فون آیا کہ میں انٹر ویو میں پاس ہو گیا ہوں اور جلد ہی مجھے نوکری مل جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے وہاں افسروں کا دل ایسا پھیرا کہ بہت کچھ دینے والوں کو نوکری نہیں ملی اور اس بیٹے کے لئے اس کی دعاؤں اور نیک نیت اور قربانی کی وجہ سے اللہ تعالی نے نوکری کا انتظام کر دیا۔