خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 537

خطبات مسرور جلد 16 537 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 نے اپنے بھائی کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ جب میں بہت چھوٹی تھی تو والدہ کے ساتھ جلسوں میں جایا کرتی تھی اور علمائے کرام کی تقاریر میں سنا کرتی تھی کہ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کی بنیاد رکھی اور اس کے لئے مالی قربانیوں کی تحریک فرمائی تو بہت سی مستورات نے حضور کی خدمت میں اپنے زیورات پیش کئے۔جب بھی یہ ایمان افروز واقعہ سنتی تو میرے دل میں بھی ایک خواہش پیدا ہوتی کہ کاش میرے پاس بھی زیور ہو تا تو میں بھی اسے چندہ تحریک جدید میں دیتی۔مگر غربت کی وجہ سے میرے لئے یہ ناممکن تھا۔لیکن اب مجھے دو تولہ سونا میری والدہ کی وفات کے بعد ترکہ میں ملا ہے وہ میں پیش کرتی ہوں۔کیونکہ پتہ نہیں اس کے بعد میر از یور رہے نہ رہے۔کہتے ہیں انہوں نے ان کو سمجھایا، انسپکٹر صاحب نے بھی، لوگوں نے بھی کہ آپ کی شادی ہونی ہے اور زیور کی ضرورت ہو گی لیکن وہ بضد رہیں اور دو تولے سونے کی قیمت چندہ تحریک جدید میں ادا کر دی۔ابھی پچھلے جمعہ امریکہ میں بھی میں نے یہ کہا تھا، اکثر کہتا رہتا ہوں کہ غرباء تو مالی قربانیاں کر رہے ہیں لیکن امیر لوگ جو اچھے حالات میں ہیں ان کو اپنے حالات پہ نظر ڈالنی چاہئے کہ کیا ان کے قربانی کے معیار ایسے ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے معیار ہونے چاہئیں اور پھر ان کو قبول بھی فرماتا ہے۔انڈیا سے ہی ایک انسپکٹر تحریک جدید صوبہ کرناٹک کے لکھتے ہیں کہ ایک دوست کا چندہ تحریک جدید اڑھائی ہزار روپیہ قابل ادا تھا۔ان سے ادائیگی کی درخواست کی گئی کہ تحریک جدید کا سال ختم ہونے میں صرف چند دن رہ گئے ہیں۔اس پر موصوف نے کہا کہ بارش کی وجہ سے پچھلے تین ماہ سے کام بالکل بند ہے اور آمد کی بھی کوئی امید نظر نہیں آرہی تو اس پر کہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ ادائیگی کا ارادہ کر لیں اور خد اتعالیٰ سے دعا مانگیں۔یہ کہہ کے میں انگلی جگہ چلا گیا۔شام کو جب وہاں دوسری جگہوں کے دورے سے واپس آیا تو موصوف خود مشن ہاؤس آئے اور اپنا مکمل چندہ ادا کر دیا۔میں نے ان سے پوچھا یہ اتنی جلدی کس طرح ہو گیا۔کہنے لگے کہ بس یہ ارادہ کی برکت اور چندہ دینے کی برکت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میں نے دعا بھی کی اور ایک آدمی نے کچھ عرصہ سے میرے کچھ پیسے دینے تھے اور میں کئی مہینے سے اس کے چکر لگا رہا تھا وہ نہیں دے رہا تھا۔لیکن آج اچانک خود میرے گھر آیا اور میری رقم لوٹا دی۔پھر تنزانیہ سے معلم موسیٰ صاحب لکھتے ہیں کہ دار السلام جماعت کے ایک انتہائی مخلص احمدی دوست ہیں اور جماعتی دفتر میں خدمت بھی کر رہے ہیں ان کی ہر سال کو شش ہوتی ہے کہ اپنی اور فیملی کے تحریک جدید اور وقف جدید کے وعدہ جات کی ادائیگی رمضان سے پہلے کر دیں۔لیکن اس سال گھر یلو حالات کے باعث وہ وعدہ جات کی ادائیگی نہ کر سکے اس وجہ سے بہت پریشان تھے۔بہر حال انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خود ہی میرے لئے کوئی راستہ نکالے۔کہتے ہیں کہ عید کے موقع پر جماعت کی طرف سے جماعتی کارکنان کو عیدی ملتی ہے انہوں نے سوچا تھا کہ جو عید کا تحفہ ملنا ہے اس تحفہ سے اپنی عید کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے چندہ دے دوں گا لیکن جب انہوں نے حساب لگایا تو جو عید کا تحفہ عموماً ملا کرتا ہے اس کو دینے کے بعد بھی بقایا رہ جانا تھا۔اس پر انہوں نے پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے ایسے سامان پیدا کر دے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق ادائیگی کر دیں۔چنانچہ کہتے