خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 534
خطبات مسرور جلد 16 534 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09نومبر 2018 خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔پھر فرماتا ہے ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔پھر اگلی آیت میں فرماتا ہے کہ شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور تمہیں فحشا کا حکم دیتا ہے جبکہ اللہ تمہارے ساتھ اپنی جناب سے بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ وسعتیں عطا کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان کو ہدایت دینا تجھ پر فرض نہیں لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔اور جو بھی تم مال میں سے خرچ کرو تو وہ تمہارے اپنے ہی فائدہ میں ہے جبکہ تم تو اللہ کی رضا جوئی کے سوا کبھی خرچ نہیں کرتے اور جو بھی تم ہال میں سے خرچ کرو وہ تمہیں بھر پور واپس کر دیا جائے گا اور ہر گز تم سے کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں رات کو بھی اور دن کو بھی چھپ کر بھی اور کھلے عام بھی، تو ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور نہ وہ غم کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مالی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ: " میں جو بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے۔اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔چاہتے ہیں کہ اسلام کا نام و نشان مٹا دیں جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اب اسلام کی ترقی کے لئے ہم قدم نہ اٹھائیں ؟ خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے تو اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔پس اس کی ترقی کے لئے سعی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشا کی تعمیل ہے۔" فرمایا:۔۔۔یہ وعدے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے دے گا میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔دنیا ہی میں اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر آرام میسر آتا ہے۔" (ملفوظات جلد 8 صفحہ 393-394) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مخلصین کی جماعت عطا فرمائی جس نے آپ کی بات کو سنا اور لبیک کہا اور قربانیاں دیں۔چنانچہ ان قربانیوں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " ہماری جماعت کا بہت بڑا حصہ غرباء کا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ باوجودیکہ یہ غرباء کی جماعت ہے تاہم میں دیکھتا ہوں کہ ان میں صدق ہے اور ہمدردی ہے اور وہ اسلام کی ضروریات سمجھ کر حتی المقدور اس کے لئے خرچ کرنے سے فرق نہیں کرتے۔" اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائم کردہ جماعت کے افراد کو صرف آپ کی زندگی میں ہی قربانیوں اور اخلاص و وفا میں نہیں بڑھایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آج سے تقریباً ایک سو تیس سال قبل جو جماعت قائم فرمائی تھی اس جماعت میں ایسے قربانی کرنے والے مخلصین عطا فرما تا رہا (ملفوظات جلد 8 صفحہ 25) ہے اور عطا فرما رہا ہے جو دین کی خاطر ، اپنی طاقت کے مطابق اور بسا اوقات اپنی استطاعت و طاقت سے بڑھ کر