خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 45 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 45

خطبات مسرور جلد 16 45 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 نماز کے بعد میں دو جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ مکرم چوہدری نعمت اللہ ساہی صاحب کا ہے جنہوں نے اپنے ریٹائر منٹ کے بعد بلکہ اس سے پہلے ہی زندگی وقف بھی کی تھی اور صدر انجمن احمد یہ پاکستان کے ناظم جائیداد رہے ہیں۔15 جنوری کو کینیڈا میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت حضرت حسین بی بی صاحبہ، والدہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ذریعہ آئی تھی انہوں نے اپنی ایک خواب کے ذریعہ قادیان جا کر بیعت کی تھی۔حسین بی بی صاحبہ کے خاوند حضرت نصر اللہ خان صاحب کے چھوٹے بھائی غلام احمد صاحب نے بھی قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی۔یہ چوہدری نعمت اللہ صاحب کے دادا تھے۔چوہدری صاحب کو جماعتی خدمات کی توفیق ملی۔امیر جماعت ضلع حیدرآباد رہے۔انصار اللہ کے ضلع حیدرآباد کے ناظم رہے۔قائد خدام الاحمدیہ حیدرآباد رہے۔ناظم جائیداد صدر انجمن احمد یہ ربوہ پاکستان رہے۔بچپن سے ہی با قاعدہ تہجد کے عادی تھے اور آخر دم تک اس کے لئے کوشش کرتے رہے۔نماز باجماعت باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔موسم کی شدت سردی یا بارش میں آپ کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ مسجد پہنچیں اور نماز باجماعت پڑھیں۔دعا پر آپ کو غیر معمولی یقین تھا۔خلافت سے انتہائی عقیدت تھی۔جلسہ سالانہ میں شمولیت کو بہت اہمیت دیتے تھے۔خلافت سے پہلے ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع "حیدر آباد کے دورے پر تھے تو راستے میں چوہدری صاحب کا گھر آتا تھا۔آپ وہاں گئے۔تھوڑی دیر قیام کیا۔چوہدری صاحب تو گھر میں نہیں تھے ان کی اہلیہ سے فرمایا کہ چوہدری صاحب سے کہیں کہ اب دین کی خدمت کریں۔حالانکہ ویسے تو جماعتی لحاظ سے وہ ایک عہد یدار کی حیثیت سے خدمت کر ہی رہے تھے لیکن جب با قاعدہ ایک پیغام چوہدری صاحب کو ملا تو اس کے بعد آپ نے زندگی وقف کر دی۔اس کا خط لکھا۔ہمیشہ کارکنان سے پہلے دفتر میں پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔بڑے صابر اور شاکر تھے اور دوسروں کی تکلیف کا بڑا خیال رکھنے والے تھے۔اپنے نفس پر قابو تھا۔بڑے دھیمے ٹھنڈے مزاج کے تھے۔معمولی بیماری یا تکلیف کا کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا۔ملازمت کے دوران ان کی بڑی اچھی تنخواہ ہوتی اس کے باوجود کبھی اپنے پر زائد خرچ نہیں کرتے تھے یا پیسے کا اظہار نہیں تھا اور بڑی ایمانداری سے انہوں نے کام کیا۔ٹیکسٹائل ملوں میں انہوں نے کام کیا اس کی وجہ سے ان کے جو مالکان تھے ان کو بھی آپ پر بڑا زیادہ اعتماد تھا۔آپ کے بیٹے نے جب فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کے شعبہ میں کام شروع کیا تو آپ کی ایمانداری کی وجہ سے بہت ساری ملوں کے مالکان نے کہا کہ آپ کے ساتھ ہم بغیر کسی گارنٹی اور ضمانت کے کام کر دیتے ہیں کیونکہ ہمارے لئے یہی ضمانت کافی ہے کہ تم چوہدری صاحب کے بیٹے ہو۔ان کا ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بڑا نام تھا۔اولاد کو بھی ہمیشہ خلیفہ وقت کو خط لکھنے کے لئے تلقین کرتے رہتے تھے۔پسماندگان میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے یاد گار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ موصی تھے۔ان کے ایک عزیز لکھتے ہیں کہ چوہدری نعمت اللہ صاحب کے والد عنایت اللہ صاحب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے چچازاد بھائی تھے۔ایک دفعہ ان کو پتا لگا کہ چوہدری نعمت اللہ صاحب سے ان کے والد ناراض ہیں تو