خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 531
خطبات مسرور جلد 16 531 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 لوگوں نے آگ جلائی تو جو امیر قافلہ تھا اس نے ازراہ مذاق کہہ دیا کہ اگر میں تمہیں اس آگ میں کودنے کا حکم دوں تو کو د جاؤ گے ؟ بعض لوگوں نے کہا بالکل غلط چیز ہے ، یہ تو خو د کشی ہے۔بعض نے کہا امیر کی اطاعت ضروری ہے۔لیکن بہر حال بعد میں اس نے کہا میں مذاق کر رہا تھا۔معاملہ ختم ہو گیا۔مدینہ واپس پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ واقعہ بتایا تو آپ نے فرمایا کہ امراء میں سے جو شخص تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔(سنن ابی داؤد كتاب الجهاد باب في الطاعة حديث 2625) یہ معروف کی تفصیل ہے کہ جو اللہ کا حکم ہے اس کے خلاف اگر حکم ہے تو وہ معروف نہیں ہے۔لیکن جو اللہ اور اس کے رسول کے احکامات ہیں، ان کے مطابق حکم ہے تو وہ معروف ہے۔اور پس یہ واضح ہو گیا کہ طاعت در معروف یا معروف فیصلہ جس کی پابندی ضروری ہے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات ہیں۔اور پھر اس کے رسول کے احکامات ہیں۔پس جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق حقیقی خلافت قائم ہے اور یہ انشاء اللہ قائم رہنی ہے تو یہ خلافت جو ہے کبھی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کے خلاف فیصلہ نہیں کرے گی، جو قرآن اور سنت ہے اس کے مطابق ہی چلے گی۔یہ الفاظ طاعت در معروف یا معروف فیصلہ کی اطاعت کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں استعمال کئے جیسا کہ بیان ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اپنی شرائط بیعت میں اس کو رکھا ہے اور خلافت احمدیہ میں بھی ہر عہد میں یہ شامل کیا گیا ہے۔اس کا مطلب واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو جاری کرنا اور جماعت کو اس کی تلقین کرنا اور ہر شخص جو اپنے آپ کو جماعت کا حصہ سمجھتا ہے اس کا یہ فرض ہے کہ اس عہد کی پابندی کرتے ہوئے خلیفہ وقت کی جو جماعت سے متعلق ہدایات ہیں ان پر عمل کرے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا، اگر کبھی کوئی غلط ہدایت ہو گی بھی تو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خلافت کی حفاظت کرنی ہے اس لئے اس کے نتائج اللہ تعالی کبھی برے نہیں ہونے دے گا اور ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ اس کے بہتر نتائج پیدا ہوں۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 6 صفحہ 376-377 زیر آیت النور : 56) اس لئے معروف فیصلہ کی تشریح کرنا کسی شخص کا کام نہیں ہے معروف فیصلہ وہ ہے جو قرآن کے مطابق ہے اور سنت کے مطابق ہے اور حدیث کے مطابق ہے اور اس زمانے کے حکم عدل کے احکامات کے مطابق ہے۔اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے جماعت کی وحدت قائم رہ سکتی ہے۔اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے کہ وحدت پیدا کی جائے اور مخلصین اور اطاعت گزار لوگوں کی ایک جماعت پیدا ہو۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے واضح فرمایا ہے کہ مجھے تعداد بڑھانے سے کوئی غرض نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھاتار ہوں، جو میرے ساتھ شامل ہوتے رہیں لیکن اطاعت کرنانہ جانتے ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اگر میری طرف منسوب ہونے والوں اور میری بیعت میں آنے والوں کی اصلاح نہیں ہوتی اور وہ اللہ