خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 530
خطبات مسرور جلد 16 530 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 پورا کرنے کے سامان کر دے گا اور کرتا رہتا ہے اور کر رہا ہے اور کرتا رہے گا انشاء اللہ۔پس میں ان لوگوں کو جو کشائش ہونے کے باوجود اپنی آمدنی کے مطابق چندہ نہیں دیتے توجہ دلانی چاہتا ہوں تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنیں۔آج آخری بات جس کی طرف میں توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ اطاعت ہے۔قرآن کریم میں بے شمار جگہ پر اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم آیا ہے اور پھر اولی الامر کی اطاعت کا بھی حکم ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی شرط بیعت میں بھی اطاعت کے بارے میں شرط رکھی ہے، شرائط بیعت میں شرط رکھی ہے کہ اطاعت در معروف کے اقرار پر مرتے دم تک قائم رہیں گے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) ہمارے مختلف تنظیموں کے جو عہد ہیں ان عہدوں میں یہ الفاظ ہیں کہ خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ کریں گے اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔بعض ٹیڑھے مزاج کے لوگ یا منافقانہ سوچ رکھنے والے لوگ یہ کہتے رہتے ہیں کہ معروف فیصلہ پر عہد ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ وقت کے بعض فیصلے معروف نہیں ہوتے یا بعض ان کی نظر میں معروف نہیں ہیں۔یہ تاویلیں پیش کر دیتے ہیں، دنیا میں مختلف جگہوں پر یہ سوچ ہے۔بیشک اگر ایک دوہی ہوں، شاید لاکھ میں سے ایک ہو لیکن اس سوچ کا ر ڈضروری ہے کیونکہ نوجوان نسل کو پھر یہ سوچ زہر آلود کرتی ہے۔اگر اس طرح پر کوئی خود معروف فیصلے کی تشریح کرنے لگ جائے تو پھر جماعت کی وحدت قائم نہیں رہ سکتی۔پھر اس بات پر بحث شروع ہو جائے گی کہ کیا معروف ہے اور کیا غیر معروف ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرمایا کہ ایک اور غلطی ہے وہ اطاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے۔" کہ معروف فیصلے کی اطاعت کرنا۔فرمایا کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔" آپ فرماتے ہیں کہ " یہ لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی آیا ہے۔" اور قرآن کریم میں آتا ہے کہ "وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوفٍ۔" (الممتحنة: 13) اور معروف باتوں میں تیری نافرمانی نہیں کریں گے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ " اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنالی ہے۔" حقائق الفرقان جلد 4 صفحه 75-76 زیر آیت الممتحنة 13:لا يعصينك فى معروف) کہ کون سی بات آپ صحیح کہیں گے اور کون سی غلط کہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امر بالمعروف کی تفسیر میں یہ فرماتے ہیں کہ : یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔" (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 420) یعنی معروف باتیں وہ ہیں جو خلاف عقل نہیں ہیں اور وہ قرآن کریم کے حکموں کے مطابق بھی ہیں۔پھر ایک حدیث میں واقعہ آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ایک قافلہ بھیجا۔وہاں پہنچ کر ایک جگہ