خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 529
خطبات مسرور جلد 16 529 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 اٹھ رہے ہیں۔اور اگر اس میں کوئی حقیقت ہے تو حکمت سے اور پیار سے یہ خیالات اور احساسات دور کرنے کی کو شش کرنی چاہئے اور تربیت بھی کرنی چاہئے۔کسی بھی تنظیم اور عہدیدار کو جلد بازی سے اس بارے میں کام لینے یا فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا اس جستجو میں نہ پڑ جائے کس نے کہا اور کس نے نہیں کہا بلکہ یہ دیکھیں کہ کیا حقیقت ہے یا نہیں ہے۔پس یہ دیکھنا چاہئے کہ حقیقت ہے یا اگر نہیں ہے تو کیوں سوال اٹھ رہے ہیں۔ذاتی رنجشیں تو نہیں ہیں جس کی وجہ سے یہ باتیں پیدا ہو رہی ہیں۔بہر حال جو بھی وجہ ہے پیار اور حکمت سے اس برائی کو ہمیں اپنے اندر سے نکالنا چاہئے۔یہاں جس بچی نے مجھے یہ کہا تھا اسے بھی میں نے یہی کہا ہے کہ مجھے تفصیل لکھ کر بھیجے کہ کس وجہ سے تمہارے اندر یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ جماعت میں نسلی امتیاز پید اہو رہا ہے۔بہر حال یہ بھی تکبر کی ایک قسم ہے اور ہم نے ہر قسم کے تکبر سے بچنا ہے۔ایک بات جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بھی حکم فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ارشادات ہیں وہ مالی قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا بھر کی جماعتیں مالی قربانیوں میں بڑھ رہی ہیں۔ہنگامی اور وقتی مالی قربانی میں امریکہ کی جماعتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بھر پور حصہ لینے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جو چندہ آمد وغیرہ کا با قاعدہ مالی نظام ہے ، اس میں یہاں بھی جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں یا آرہے ہیں اس کو دیکھنے سے پتہ لگتا ہے کہ بہت کمی ہے۔اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ایک غریب شخص تو اپنی مجبوری بتا کر چندے کی ادائیگی کم کرنے یا شرح کم کرنے کے لئے کہہ ہے ، اجازت لے سکتا ہے لیکن جو اچھی آمد کے لوگ ہیں ان کو اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ وہ اپنی آمد کے مطابق چندہ دے رہے ہیں یا نہیں۔صرف یہ نہیں کہ جس طرح ٹیکس دینے کے لئے بہت ساری کٹوتیاں کر لیتے ہیں چندے کے لئے بھی کر لیں۔اپنی آمد کو دیکھیں۔کیونکہ یہ چندے کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے۔سیکرٹری مال کو یا نظام کو تو پتہ نہیں ہے کہ کسی کی آمد کیا ہے جو چندہ دے رہا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کو تو پتہ ہے۔وہ تو دلوں کا حال جانتا ہے۔اگر صحیح شرح سے چندہ دینا شروع کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ مساجد کی تعمیر اور دوسرے جماعتی کاموں کے لئے پھر بہت کم علیحدہ تحریک کرنی پڑے گی۔پس اس لحاظ سے اپنے جائزے لیں اور اپنے چندہ عام کے بجٹ کا دوبارہ جائزہ لے کر لکھوائیں، جنہوں نے کم لکھوائے ہوئے ہیں۔سکتا۔میں مختلف ملکوں کے نو مبائعین کے واقعات بھی بیان کرتارہتا ہوں کہ کس طرح وہ احمدیت قبول کرنے کے بعد اپنے اندر تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں، روحانی تبدیلیاں بھی پیدا کر رہے ہیں عملی طور پر عبادتوں کی طرف بھی توجہ کر رہے ہیں اور مالی قربانیوں کی بھی اہمیت کو سمجھ رہے ہیں۔اور پھر اللہ تعالیٰ بھی باوجود ان کی غربت کے ان کو مالی کشائش عطا فرمارہا ہے اور اس وجہ سے وہ اپنے ایمان اور اخلاص میں بڑھ رہے ہیں۔قربانی کا لفظ ہی واضح طور پر یہ معنی دیتا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر کوئی کام کرنا اور یہاں تکلیف میں ڈال کر اللہ تعالیٰ کے دین کی ضروریات کے لئے دینا۔پس جو صرف اپنی سہولت سے تھوڑا بہت دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے قربانی کی وہ قربانی نہیں ہے نہ ہی ایسے لوگوں کا کوئی اللہ تعالیٰ پر احسان ہے۔اگر وہ نہ بھی دیں گے تو بھی اللہ تعالیٰ دین کی ضروریات