خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 528
خطبات مسرور جلد 16 528 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپس میں حسد مت کرو۔آپس میں نہ جھگڑو۔آپس میں بغض نہ رکھو۔ایک دوسرے سے دشمنیاں مت رکھو۔اور تم میں سے کوئی ایک دوسرے کے سودے پر سودہ نہ کرے۔آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔مسلمان اپنے بھائی پر ظلم نہیں کرتا۔اسے ذلیل نہیں کرتا۔اور اسے حقیر نہیں جانتا۔کسی آدمی کے شر کے لئے اتناہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلة باب تحريم ظلم المسلم۔۔۔حديث 6541) یہ وہ بات ہے جو آج سب سے زیادہ ہم احمدیوں سے ظاہر ہونی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی حد تک ہو رہی ہے۔اگر تمام مسلمان آج اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اس پر عمل کرنے والے ہوں اور مسلمانوں کی حکومتیں اس پر عمل کرنے والی ہوں تو آجکل مسلمان مسلمان پر جو ظلم کر کے ان کے جان و مال کو تباہ کر رہا ہے، ہزاروں لاکھوں بچے یتیم ہو رہے ہیں، لاکھوں عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں ، بوڑھے مر رہے ہیں یہ کچھ بھی نہ ہو۔پھر تکبر ایک بہت بڑی برائی ہے جس سے بچنے کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں تلقین فرمائی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں بہت توجہ دلائی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جاسکے گا۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب تحريم الكبر وبيانه حديث 267) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے نہ علمی ، نہ خاندانی ، نہ مالی۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 276) پھر آپ فرماتے ہیں: "میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔" نزول المسیح روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 402) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو۔سب برابر ہو۔اور کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر اور عرب کو غیر عرب پر اور غیر عرب کو عرب پر کوئی برتری نہیں ہے۔(الجامع لشعب الايمان جلد 7 صفحه 132 حديث 4774 مكتبة الرشد ناشرون 2003ء) پس ہمارے لئے تو عاجزی کی یہ تعلیم ہے، برابری کی یہ تعلیم ہے۔تکبر سے بچنے کی اور فخر سے بچنے کی یہ تعلیم ہے جس پر ہر ایک کو ہم میں عمل کرنا چاہئے۔غیر مسلم دنیا میں تو گورے کالے کا فرق کیا جاتا ہے اور اب یہ دعویٰ بھی بعض سفید فام لیڈر کرتے ہیں کہ سفید فام کی جو دماغی استعدادیں ہیں اور صلاحیتیں ہیں وہ غیر سفید فام سے زیادہ ہیں۔یہ ان کے تکبر کی حالت ہے۔ہر احمدی کو اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔دو مختلف مواقع پر میرے ساتھ مجالس میں یہاں امریکہ کی لڑکیوں کی طرف سے یہ اظہار کیا گیا ہے کہ جماعت میں بعض قسم کا نسلی امتیاز ہے۔اگر کسی بھی وجہ سے نوجوان نسل میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے تو انتہائی غلط ہے۔لجنہ کو بھی، خدام کو بھی، انصار کو بھی اور جماعتی تربیتی نظام کو بھی اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ یہ سوال کیوں