خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد 16 527 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 اگر نفلوں کی عادت ہو۔پس نوافل اور تہجد کی ادائیگی بھی اہم چیز ہے۔اس کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔پھر ایک انتہائی ضروری بات جس پر ہر احمدی کو نظر رکھنی چاہئے وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کی طرف مستقل توجہ ہے۔انسان کمزور ہے۔بعض دفعہ غلطیوں سے بچنے کی کوشش کے باوجو د غلطیاں ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ اپنے بندوں کی صرف غلطیوں کو پکڑنے والا ہے اور سزا دینے والا ہے یا اس نے انہی پر نظر رکھی ہوئی ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان غلطیوں کی معافی اور آئندہ ان سے بچنے کا طریقہ بھی ہمیں بتایا ہے اور وہ استغفار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ لوگوں کو عذاب دے جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔(الانفال:34) چند لوگ بھی استغفار کرنے والے ہوں تو بہت ساروں کی سزا معاف ہو جاتی ہے ان کی وجہ سے دوسرے بھی بچائے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کروایا ہے۔خبر ہو یا نہ ہو انسان استغفار کرتا رہے کوئی پتہ نہیں کس وقت کیا غلطی ہو رہی ہے، انجانے میں گناہ ہو جاتے ہیں۔فرمایا کہ استغفار کا التزام کروایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ہو خواہ باطن کا اسے علم ہو یا نہ ہو اور ہاتھ اور پاؤں اور زبان اور ناک اور کان اور آنکھ اور سب قسم کے گناہوں سے استغفار کرتا رہے۔یعنی انسان کے سارے جو اعضاء ہیں، مختلف اعضاء ہیں وہ گناہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔اس لئے ہر ایک عضو کو گناہ سے بچانے کے لئے استغفار کرتے رہو۔گناہ کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعا سکھائی کہ اس زمانے میں، جو آجکل کا زمانہ ہے قرآن کریم کی یہ دعا پڑھتے رہنا چاہئے اور وہ دعا ہے رَبَّنَا ظَلَمْنَا انْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) (ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 275) کہ اے اللہ ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہمیں نہ بخشے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف:24) آپ فرماتے ہیں کہ "جب خدا سے طاقت طلب کریں یعنی استغفار کریں تو روح القدس کی تائید سے ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے۔" کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 34) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے یہ بھی بنیادی شرط رکھی ہے کہ وہ حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) آپ نے ہمیں ہر وقت اپنے دلوں کو ٹولنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کیا تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کی خشیت اور اس کے نتیجہ میں اس کی مخلوق کی ہمدردی اور خیر خواہی ہے ؟ ایک حدیث میں آتا ہے کہ