خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 526
خطبات مسرور جلد 16 526 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 بڑے بڑے herd رکھے ہوئے ہیں جو چراتے ہیں۔باہر کا کام ہے ، محنت کا کام ہے۔کپڑے بھی ہمارے خراب ہو جاتے ہیں اس کا اعتماد کوئی نہیں ہے اور پھر یہ ہے کہ اس مصروفیت کی وجہ سے فرصت بھی نہیں ہوتی کہ پانچ نمازیں ادا کریں تو آپ نے ان کو جواب میں فرمایا کہ دیکھو جب نماز نہیں ہے تو ہے ہی کیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 253-254) وہ دین ہی نہیں جس میں نماز نہیں۔فرماتے ہیں نماز کیا ہے؟ یہی کہ اپنے عجز و نیاز اور کمزوریوں کو خدا کے سامنے پیش کرنا اور اسی سے اپنی حاجت روائی چاہنا، اُسی سے مانگنا۔فرماتے ہیں خدا کی محبت ، اس کا خوف، اس کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نماز ہے اور یہی دین ہے۔فرماتے ہیں کہ پھر جو شخص نماز سے ہی فراغت حاصل کرنی چاہتا ہے تو اس نے حیوانوں سے بڑھ کر کیا کیا۔اس کی پھر جانوروں والی حالت ہے۔وہی کھانا پینا اور حیوانوں کی طرح سو رہنا یہ تو دین ہر گز نہیں۔یہ سیرت کفار ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح طور پر فرما دیا کہ جانور اور انسان میں فرق کرنے والی چیز جو ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز ہے۔اگر ہم میں نماز پڑھنے کی طرف توجہ نہیں ہو رہی تو خود ہی اندازہ کر سکتے ہیں کہ کس زمرے میں آتے ہیں۔کئی مرتبہ میں اس طرف توجہ دلا چکا ہوں اور دلاتا رہتا ہوں کہ اگر نماز سینٹریا مسجد دُور ہے تو قریب کے چند گھر آپس میں مل کر ایک جگہ مقرر کر لیں جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہو۔اس سے جہاں نماز با جماعت کا ثواب ملے گا وہاں نمازوں کی طرف توجہ بھی رہے گی اور اگلی نسلوں کو بھی اس حوالے سے توجہ رہے گی اور ان کی اصلاح ہوتی رہے گی۔ان کی بھی نمازوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔ہم مسجد بنانے کی طرف توجہ کر رہے ہیں، مسجدیں بنا رہے ہیں۔اب کل ورجینیا میں انشاء اللہ تعالیٰ مسجد کا افتتاح ہو گا لیکن اگر ہمارا عبادتوں کی طرف رجمان نہیں ہے تو ان مسجدوں کے بنانے کا کیا فائدہ؟ میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر عہدے دار، ہر تنظیم کے عہدے دار اور جماعتی سطح کے عہدیدار ہر سطح پر نمازوں کی حاضری کی طرف بھر پور توجہ دیں تو حاضری کئی گنا بہتر ہو سکتی ہے اور ہماری اگلی نسلوں کی بھی تربیت ہو سکتی ہے۔نماز کی اہمیت کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ایسا ہے جو یقیناًہمارے دلوں کو ہلا دینے والا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا بندوں سے حساب لیا جائے گاوہ نماز ہے۔اگر یہ حساب ٹھیک رہا تو وہ کامیاب ہو گیا اور نجات پالی اگر یہ حساب خراب ہوا تو وہ ناکام ہو گیا اور گھاٹے میں رہا۔(سنن النسائى كتاب الصلاة باب المحاسبة على الصلاة حديث 466) پس یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ نماز پر توجہ کا جو حق ہے وہ ادا نہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو یہ حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حق صرف فرض نمازوں سے ہی ادا نہیں ہو گا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ تہجد اور نفل پڑھنے کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 3 صفحہ 245) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تمہارے فرائض نمازوں میں جو بعض دفعہ کمی رہ جاتی ہے اللہ تعالیٰ انہیں نفلوں کے ذریعہ سے پوری فرما دیتا ہے۔(سنن النسائى كتاب الصلاة باب المحاسبة على الصلاة حديث 466)