خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 525 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 525

خطبات مسرور جلد 16 525 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 کچھ غلط ہو رہا ہے۔پس ایک احمدی کو خاص طور پر ان چیزوں سے بچنا چاہئے۔پھر ایک حقیقی احمدی بننے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہر قسم کے ظلم سے بچنے کی طرف بھی خاص توجہ خاص طور پر دلائی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگر میری طرف منسوب ہونا ہے تو پھر کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنہ کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 46-47) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ سب سے بڑا ظلم کون سا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ایک ہاتھ زمین دبالے یعنی اس پہ قبضہ کر لے۔اس زمین کا ایک کنکر بھی جو ہے، ایک چھوٹا سا ٹکڑا جو دو انگلیوں میں آجاتا ہے جو اس نے ظلم کی وجہ سے لیا ہو گا، کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی قبضہ کیا ہو گا تو اس کے نیچے کی زمین کے تمام طبقات یعنی اس زمین کے نیچے زمین کی جتنی تہیں ہیں ان کے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔جب اس کا حساب کتاب ہو گا ایک بار بنایا جائے گا اور وہ ہار گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد2 صفحه 59-60 مسند عبد الله بن مسعود حدیث (3767) اب زمین کے نیچے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہزاروں میل کے طبقات میں ، اب انسان یہ تصور کرے کہ اس وجہ سے کتنے بڑے بوجھ انسان پر ڈلیں گے۔اتنی بڑی سزا ہے کہ اس کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا۔پس کسی کے حقوق دبانا بہت بڑا ظلم اور گناہ ہے۔غیروں کو ہم اسلام کی خوبیاں بتاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کے اعلیٰ ترین معیار اسلام کی تعلیم میں ہیں۔اسلام حقوق لینے کی بجائے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لوگوں کو تو ہم بڑے بڑھ بڑھ کے یہ باتیں کہتے ہیں اور اگر ہمارے عمل اس سے مختلف ہیں تو ہم گناہگار ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں۔پس اس کا بھی باریکی کے ساتھ ہر احمدی کو جائزہ لینا چاہیئے۔ہمارے عمل ہماری تعلیم کے مطابق ہوں گے تو ہماری تبلیغ بھی پھل دار ہو گی۔ہمارے اثرات لوگوں پر اچھے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو معیار مقرر فرمایا ہے اور جیسا کہ یہ بیان ہوا ہے کہ ظلم کا خیال بھی دل میں نہیں لانا کجا یہ کہ کسی پر کسی بھی طرح ظلم کیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت ایک مومن ہونے کی اہم شرط ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصد بھی عبادت قرار دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " اے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میر کی جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے سو اپنی پنجوقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔" پھر آپ نے فرمایا نماز ہر ایک مسلمان پر فرض ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم اسلام لائی اور عرض کی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز معاف فرما دی جائے کیونکہ ہم کاروباری آدمی ہیں، ہمارا پانچ وقت نمازیں پڑھنا بڑا مشکل کام ہے۔مویشی وغیرہ بھی ہمارے ساتھ ہیں ،