خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 524
خطبات مسرور جلد 16 524 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 جھوٹ ہیں اور توحید سے دور لے جانے والی ہیں۔بہت سے آپس کے مسائل ہیں ، جھگڑے ہیں، ایسی باتیں ہیں جن میں انسان جھوٹ سے کام لے کر اپنے حق میں بعض فیصلے کروالیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس باریکی سے جھوٹ سے ہوشیار فرمایا ہے اگر انسان اس پر غور کرے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا کہ آؤ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور پھر وہ اسے دیتا کچھ نہیں تو یہ جھوٹ میں شمار ہو گا۔(سنن ابی داود کتاب الادب باب فى التشديد فى الكذب حديث 4991) گویا کہ مذاق میں بھی جو جھوٹ ہے وہ بھی جھوٹ ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ جھوٹ گناہ اور فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم کی طرف۔فسق و فجور کا مطلب یہ ہے کہ سچائی سے بہت دور ہٹنے والا اور انتہائی گناہگار، گناہ کرنے والا۔پس ہمیں ہر وقت اپنے جائزے لینے چاہئیں کہ ہم سچائی کے کس اعلیٰ معیار پر ہیں یا سچائی کے اس اعلیٰ معیار پر قائم ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جس کے بارے میں آپ نے یہ فرمایا کہ یہ جنت کی طرف لے جاتی ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب في التشديد في الكذب حديث 4989) پھر ایک برائی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خاص طور پر بیان فرمائی ہے، اپنے ماننے والوں کو اس سے بچنے کی خاطر خاص طور پر نصیحت فرمائی ہے بلکہ بیعت کی شرائط میں سے بھی ہے وہ زنا ہے۔(ماخوذاز ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 563) اب زنا صرف ظاہری زنا نہیں ہے جو ظاہری غلط جنسی تعلقات کی وجہ سے زنا ہو تا ہے بلکہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا۔(بنی اسرائیل: 33) یعنی "زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو " ایسے کوئی بھی مواقع سے دُور رہو " جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہو سکتا ہو " عملاً نہیں بلکہ خیال بھی دل میں پیدا ہو تا ہو تو ان راہوں کو اختیار نہ کرو۔فرمایا " اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 342) کوئی بھی امکان ہو ، کوئی بھی خطرہ ہو کہ انسان زنا کی طرف جا سکتا ہے۔آجکل کے زمانے میں ٹی وی ہے انٹر نیٹ ہے اس پر ایسی غلط قسم کی فلمیں دکھائی جاتی ہیں جن میں کھلے عام زنا کی تحریک کی جاتی ہے۔پس ایسی چیزوں سے بچنا ہر احمدی کا کام ہے۔کئی گھروں میں اس وجہ سے لڑائی جھگڑے ہیں، کئی گھر اس وجہ سے ٹوٹ رہے ہیں یا ٹوٹ چکے ہیں کہ خاوند جو ہے بیٹھا ہے فلمیں دیکھ رہا ہے یا انٹر نیٹ پر بیٹھا ہوا ہے اور غلط سوچیں پیدا ہو رہی ہیں۔کئی نوجوان اس وجہ سے برباد ہو رہے ہیں اور غلط صحبت میں پڑ رہے ہیں کیونکہ ننگی اور غلط فلموں کو دیکھنے کی عادت ہے۔یہ نام نہاد ترقی یافتہ معاشرہ اس کو آزاد خیالی اور ترقی سمجھتا ہے لیکن ہم نے اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچانا ہے۔خود یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ اس کے نقصانات ہیں اور اگر آپ خود جاکے پورنوگرافی کی فلموں کی انفارمیشن لیں تو اس میں آپ کو یہ مل جائے گا کہ یہ زنا کی طرف لے جا رہا ہے ، ڈومیسٹک وائلنس ( domestic violence) کی طرف لے کے جار ہی ہے۔اور غلط تعلقات ہو رہے ہیں۔بچوں سے زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں اور یہ سب ان گندی فلموں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خیال بھی دل میں نہ آئے۔اگر خیال بھی دل میں آتا ہے تو اس سے بچو۔تو اب یہ ثابت ہو رہا ہے کہ ان چیزوں کو دیکھنے سے یہ سب