خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 523
خطبات مسرور جلد 16 523 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 تکمیل کرنا ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے۔اگر کوئی کسی شخص کے خلیفہ وقت سے عزت و احترام کے طریق سے ملنے سے یہ اثر لیتا ہے تو پھر اس کو بجائے رائے قائم کرنے کے سوچنا چاہئے کہ کہیں وہ بد ظنی تو نہیں کر رہا۔اس لئے اگر بدظنی ہے تو بد ظنی کرنے والوں کو بدظنیوں سے بچنا چاہئے اور اگر کوئی واقعی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ جہاں لوگوں میں اس کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو کہ خلیفہ وقت کو نعوذ باللہ شرک کی حد تک مقام دیا جارہا ہے تو اس کو استغفار بھی کرنی چاہئے اور احتیاط بھی کرنی چاہئے۔نہ میں ایسے پسند کرتا ہوں اور نہ کبھی کیا ہے نہ میرے سے پہلے خلفاء نے کیا ہے اور نہ انشاء اللہ آئندہ آنے والے خلفاء کبھی یہ پسند کر سکتے ہیں کہ ان کی ذات کی کوئی اہمیت ہے۔ہاں خلافت کا احترام قائم کرنا خلیفہ وقت کا کام ہے اور وہ اس کی ذمہ داری ہے اور وہ کرے گا اور اس لئے کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق خلافت کے ذریعہ توحید کا پیغام دنیا میں پھیلنا ہے اور دنیا سے شرک کا خاتمہ ہونا ہے۔پس بعض کچے دماغوں میں جو ایسے خیالات تربیت کی کمی کی وجہ سے ابھرتے ہیں وہ انہیں اپنے ذہنوں سے نکال دیں۔توحید کے قیام کی کوشش اور شرک سے اپنے ماننے والوں کے دلوں کو پاک کرنے کے اہم کام کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں جو توجہ دلائی اور جس پر ہماری بیعت لی وہ جھوٹ اور اخلاقی برائیوں سے بچنا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ - (الحج: 31) کہ پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: " قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے۔گندی چیز قرار دی ہے، ناپاک چیز قرار دی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔دیکھو یہاں " یعنی اس آیت میں " جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے۔ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہو تا۔" ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 350) جھوٹ کے نیچے صرف ایک بناوٹ ہے ، ظاہری الفاظ کو sugar-coat کر کے پیش کیا جاتا ہے یا کوئی تحریر ہے تو اس کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے، خوبصورت کر کے دکھایا جاتا ہے اس کے اندر کچھ بھی نہیں ہو تا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔" اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361) پس اگر توحید کا دعویٰ ہے ، اگر خدا تعالیٰ کی عبادت کا دعوی ہے ، اگر حقیقی مسلمان بننے کا دعویٰ ہے تو پھر جھوٹ کو اپنے اندر سے ہمیں نکالنا ہو گا اور جھوٹے کو بھی نکالنا ہو گا۔بعض لوگ معمولی باتوں پر غلط بیانی سے کام لے لیتے ہیں۔یہ ایک مومن کی شان نہیں ہے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ بعض چھوٹی چھوٹی غلط بیانیاں جھوٹ نہیں ہیں یہ