خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 522
خطبات مسرور جلد 16 پرستش کی جاوے اور معبودات دنیا پر زور دیا جاوے۔" 522 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 (ملفوظات جلد 6 صفحہ 18-19) معبودات دنیا کیا ہیں؟ دنیاوی مفادات ہیں جن کی خاطر انسان دین کے احکامات اور خدا تعالیٰ کے احکامات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اعمال میں ریاء سے کام لینا، دکھاوے سے کام لینا اور مخفی خواہشات میں مبتلا ہونا یہ بھی شرک ہے۔(مستدرك للحاكم جلح4 صفحه 366 كتاب الرقاق حديث 7940 مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) اگر کوئی شخص دینی حکم کو پس پشت ڈال کر دنیاوی خواہشات کو پورا کرتا ہے تو شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔صحابہ میں اللہ تعالیٰ کی اس قدر خشیت تھی کہ ایک صحابی کا ذکر آتا ہے ایک دفعہ وہ بیٹھے رورہے تھے۔کسی نے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات یاد آگئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنی امت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہشات سے ڈرتا ہوں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحه 835 مسند شداد بن اوس حديث 17250 مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) یہ وہ مقام تھا صحابہ کا اللہ تعالیٰ کے خوف کا اور شرک سے بچنے کا۔بلکہ دوسروں کے بارے میں بھی ایک احساس تھا ایک فکر تھی کہ امت میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو مخفی شرک کریں۔ایک خیال آیا دل میں ان کے اور اس خیال پر ہی جسم پر لرزہ طاری ہو گیا، فکر پید اہو گئی، رونا شروع کر دیا اور یہی وہ حالت ہے جس سے انسان حقیقی طور پر موحد اور ایک خدا کی عبادت کرنے والا بنتا ہے یا بن سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: " توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہئے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہئے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔فرمایا ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دیجائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بت ہے۔یاد رہے کہ حقیقی توحید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو خواہ انسان ہو خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر فریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا، کوئی رازق نہ مانا، کوئی معز اور مدل خیال نہ کرنا۔" (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 349-350) کوئی عزت دینے والا اور کسی کو ذلیل کرنے والا خیال نہ کرنا کہ ان لوگوں سے میری عزت اور ذلت وابستہ ہے بلکہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ پہ ہی ان باتوں کا انحصار ہو۔پس یہ چیز ہے جو اسلام کی بنیادی شرط ہے ، جو احمدی احمدیت اور حقیقی اسلام کی بنیادی شرط ہے۔کسی نے مجھے کہا کہ لوگ خلافت یا خلیفہ وقت کو اس حد تک اونچا مقام دے دیتے ہیں کہ گویا وہ شرک کی حد تک چلے گئے ہیں۔واضح ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں دنیا سے شرک ختم کرنے آئے تھے۔پس یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں کہ آپ کی سچی خلافت کسی بھی قسم کے شرک کو بڑھانے والی ہو یا ہوا دینے والی ہو۔خلافت کا تو بنیادی کام ہی شرک کا خاتمہ اور توحید کا قیام ہے اور اس مشن کی