خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 521
خطبات مسرور جلد 16 521 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 نہیں تھے۔خودی اور نفسانیت اس حد تک بڑھ گئی کہ خلافت کی بیعت کا دعویٰ تو ہے لیکن کوئی اس کا پاس نہیں ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اگر بیعت کی ہے تو خودی اور نفسانیت سے الگ ہو نا پڑے گا۔فرمایا کہ تب وہ نشو و نما کے قابل ہوتا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔" (ملفوظات جلد 6 صفحہ 173) زبانی دعویٰ تو ہے۔ملیں گے تو بڑے احترام سے بھی ملیں گے۔لیکن آپس میں رنجشوں کی وجہ سے اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کہ خلیفہ وقت وہاں موجود ہے اور اس کے پیچھے نمازیں پڑھنے جانا ہے نہ کہ کسی عہدیدار کی خاطر مسجد میں آنا ہے ، اور خود بھی عہدیدار ہے۔تو یہ حالت اگر ہو تو پھر ایسے احمدی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔پس جان بیچنا یہ ہے کہ عاجزی اور انکساری پیدا ہو۔انا کو مارنا پڑتا ہے۔خودی اور نفسانیت سے الگ ہو نا پڑتا ہے۔انسان کا اپنا کچھ نہ ہو اور ہر چیز خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہو۔اور جب یہ حالت ہو تو پھر یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ اس جان کو ضائع کر دے۔جب اللہ تعالیٰ کو جان دے دی اللہ تعالیٰ ایسی جان کی قدر کرتا ہے اور ہر لحاظ سے اس کی حفاظت فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: " اگر بیعت کے وقت وعدہ اور ہے اور پھر عمل اور ہے تو دیکھو کتنا فرق ہے "کتنا بڑا تضاد ہے تمہاری باتوں ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 70-71) میں۔" اگر تم خدا سے فرق رکھو گے تو وہ تم سے فرق رکھے گا۔" آپ نے فرمایا اس لئے تم اپنے ایمانوں اور اعمال کا محاسبہ کرو کہ کیا ایسی تبدیلی اور صفائی کر لی ہے کہ تمہارا دل خدا تعالیٰ کا عرش ہو جائے اور تم اس کی حفاظت کے سایہ میں آجاؤ۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 70 حاشیہ) آپ نے فرمایا کہ: " میں نے بار ہا اپنی جماعت کو کہا ہے کہ تم میرے اس بیعت پر ہی بھروسہ نہ کرنا۔اس کی حقیقت تک جب ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 232-233) تک نہ پہنچو گے تب تک نجات نہیں۔" آپ نے فرمایا کہ: " میں تمہیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ایسے پاک صاف ہو جاؤ جیسے صحابہ نے اپنی تبدیلی کی۔" (ملفوظات جلد 4 صفحہ 70 حاشیہ) پس صحابہ کو دیکھیں کیا پاک تبدیلیاں تھیں۔انہوں نے سالوں بلکہ نسلوں کی دشمنیوں کو صرف خدا تعالیٰ کی خاطر محبت، پیار اور بھائی چارے میں بدل دیا کجا یہ کہ چند منٹ کی رنجش سے مسجدوں میں آنا چھوڑ دیں۔اپنی جانوں کو بیچا تو جو بالکل جاہل لوگ تھے، تعلیم یافتہ ہوئے، تعلیم یافتہ سے باخدا انسان بنے۔انہوں نے دل و جان سے اس بات کو مانا کہ آج سے ہمارا اپنا کچھ نہیں سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے۔انہوں نے جب شرک سے توبہ کی تو مخفی تر شرک جو تھا اس سے بھی بچنے کی کوشش کی۔مخفی شرک کیا ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " شرک سے یہی مراد نہیں کہ پتھروں وغیرہ کی پرستش کی جاوے بلکہ یہ ایک شرک ہے کہ اسباب کی