خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 44 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 44

خطبات مسرور جلد 16 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جنوری 2018 اللہ تعالیٰ غیر مسلموں کو بھی احمدیوں کی دعاؤں کی قبولیت کے ایسے نظارے دکھاتا ہے جو ان کو اس بات کا قائل کر دیتے ہیں کہ اسلام کا خدا دعاؤں کا سننے والا خدا ہے۔مرزا افضل صاحب کینیڈا سے لکھتے ہیں کہ ہم وینکوور کے مغرب میں ایک انٹر فیتھ کا نفرنس میں ایک شہر میں گئے اور ایک فون بک دیکھ کر ایک سکھ کو فون کیا کہ ہم یہاں انٹر فیتھ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے ہمیں اپنے گھر خوش آمدید کہا۔کھانا کھلایا۔اپنے گھر میں ہی ہمیں ظہر عصر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی۔انہوں نے کانفرنس میں ہر قسم کی مدد کرنے کا وعدہ کیا۔جب ہم چلنے لگے تو انہوں نے نہایت عاجزی سے کہا کہ اس کے بیٹے کی تین بیٹیاں ہیں اور یہ کہ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو بیٹا بھی دے دے۔کہتے ہیں ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ہاتھ اٹھا کے وہیں دعا بھی کی اور انہیں بتایا کہ ہم اپنے خلیفہ کو بھی دعا کے لئے لکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر ایک ڈیڑھ سال کے بعد ان کا بڑا خوشی سے فون آیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پو تا عطا فرمایا ہے۔دعاؤں کے قبولیت کے یہ چند واقعات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " قانون قدرت میں قبولیت دعا کی نظیریں موجود ہیں۔" جیسا کہ شروع میں بچے کے چلانے کی وجہ سے ماں کے دودھ کے اترنے کی مثال کا ذکر ہو چکا ہے۔یہ قانون قدرت ہی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ اسی قانون کے تحت " اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ زندہ نمونے بھیجتا ہے۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 199) اور اگر قبولیت دعا کے زندہ نمونوں کا حصہ بننا ہے تو پھر بعض لوازمات ہیں۔بعض شرطیں ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں دعا قبول نہیں ہوئی۔آپ فرماتے ہیں کہ ان کے لئے بعض شرطیں بھی ضروری ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ " دعا کے لوازمات سے اول ضروری یہ ہے کہ اعمال صالحہ اور اعتقاد پیدا کریں کیونکہ جو شخص اپنے اعتقادات کو درست نہیں کرتا اور اعمال صالحہ سے کام نہیں لیتا ان کو بہتر نہیں کرتا اور دعا کرتا ہے وہ گویا خد اتعالیٰ کی آزمائش کرتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 200) پس ایمان کو جہاں اعتقادی لحاظ سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں عملی حالت کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکموں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ویسے تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق پانچ وقت نمازوں پہ توجہ نہ دیں۔لوگوں کے بنیادی حق ادا نہ کریں اور جب مشکل میں گرفتار ہوں تو اس وقت پھر ہمیں اللہ بھی یاد آجائے۔لوگوں کے حق ادا کر نے بھی یاد آجائیں۔پہلے اپنی حالتوں کو بہتر کرنا ہو گا۔اعتقادی حالت جو بہتر کی ہے تو صرف اعتقادی حالت کے بہتر ہونے سے ہی کام پورا نہیں ہو تاجب تک عمل صالح نہ ہو۔اور عمل صالح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حق بھی ادا کئے جائیں اور اس کے مخلوق کے حق بھی ادا کئے جائیں۔پس یہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ پھر دعاؤں کو بھی سنتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کے حکموں کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے اور عبادتوں اور دعاؤں کے حق ہمیشہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔