خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 520 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 520

خطبات مسرور جلد 16 520 44 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 نومبر 2018 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 02 / نومبر 2018ء بمطابق 02 / نبوت 1397 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورہ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ہر شخص مرد یا عورت جو اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اس کا صرف اتنا اعلان ہی اسے حقیقی احمدی نہیں بنا دیتا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانتا ہے، آپ کے دعوے کو مانتا ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک حقیقی احمدی بننے کے لئے بعض شرائط رکھی ہیں، بعض ذمہ داریاں ڈالی ہیں، بعض فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر ان پر عمل کرو گے ، ان کو ادا کرو گے تو تبھی حقیقی رنگ میں میری جماعت میں شمار ہو گے۔گویا احمدی بننے کے لئے صرف اعتقادی تبدیلی کافی نہیں ہے یا صرف اس بات پر اکتفا نہیں کر لینا کہ میرے والدین احمدی تھے تو میں بھی احمد کی ہوں۔یا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کو سچا مانا تو میں نے مان لیا اور میں احمدی ہوں۔یہ اعتقادی لحاظ سے تو بیشک ایک شخص کو احمدی بناتا ہے لیکن عملی احمدی بننے کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ ان باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک احمدی سے توقع فرمائی ہے۔آپ نے بڑا واضح طور پر فرمایا کہ اگر تم اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے تو پھر تمہارا دعویٰ صرف منہ کا دعویٰ ہے، زبانی باتیں ہیں۔آپ نے فرمایا: " بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 29) کے ہاتھ بیچ دی۔" پس یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔جب ہم اپنی کوئی چیز کسی کو بیچتے ہیں تو پھر اس پر ہمارا کوئی حق نہیں رہتا بلکہ جس کے پاس بیچی ہو وہ اس کا مالک بن جاتا ہے اور پھر اسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے۔پس یہ وہ حالت ہے جو ہمیں اپنے اوپر طاری کرنی چاہئے اور یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں اپنی جانوں کے بارے میں رکھنی چاہئے۔اس سوچ اور اس حالت کو حاصل کرنے کے لئے آپ نے فرمایا کہ: " بیعت کنندہ کو اول انکساری اور عجز اختیار کرنی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے۔اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہیں کہ خودی اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتا ہے۔بعض لوگوں میں خودی اور نفسانیت کی یہ حالت ہے کہ ایک عہدے دار دوسرے عہدے دار سے ناراض ہو کر ایک جگہ میری موجودگی کے باوجود مسجد میں نمازوں کے لئے حاضر نہیں ہوا۔اس لئے کہ اس عہدے دار سے اس کے تعلقات ٹھیک