خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 518
خطبات مسرور جلد 16 518 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 فرمایا" دیکھو انسان روٹی کھاتا ہے۔جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھالے تو اُس کی بھوک (ملفوظات جلد 5 صفحہ 75) نہیں جاتی۔" قہر الہی کے بارے میں بھی آپ دیکھ لیں آپ فرمارہے ہیں قہر الہی نازل ہو رہا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں با قاعدہ یہ اعداد و شمار ہیں کہ دنیا میں جتنے زلزلے اور طوفان اور آفات گزشتہ سوسال میں آئے ہیں پہلے نہیں آئے۔یہاں بھی طوفان آتے رہتے ہیں ، بارشیں بھی ہوتی ہیں اور بے شمار ہو رہی ہیں اور ہر دفعہ یہی کہا جاتا ہے کہ پانچ سو سال کی مثال ہے ، اتنے سو سال کی مثال ہے یا اتنی دہائیوں کی مثال ہے، یہ کیا ہے ؟ سمجھنے کی ضرورت ہے۔یہ لوگ تو نہیں سمجھتے جو دنیا دار ہیں لیکن ہمیں سمجھنا چاہئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے اظہار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھل کے ان باتوں کے لئے وار ننگ دی ہوئی ہے، اس لئے ہمیں اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور دنیا کو بھی بتانا چاہئے کہ یہ آفات کوئی معمولی آفات نہیں ہیں۔ان کی پیشگوئیاں سو سال پہلے ہو چکی ہیں اور ان سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آئے۔اب بھی اگر ہوش نہیں کیا گیا تو پھر بچنا محال ہے۔اسی طرح انسان نے خود اپنے لئے مشکلات پیدا کر لی ہیں۔جنگیں ہیں ، جنگیں سہیڑی جارہی ہیں ، ایک دوسرے پر ظلم کیا جارہا ہے اور اس کا پھر آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظلم انتہا کو پہنچ جائے گا، ہمیں تو نظر آرہا ہے کہ انتہا ہو رہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ بڑی ڈھیل دیتا ہے۔جب وہ ظلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہا کو پہنچ گیا تو پھر ان ظلم کرنے والی قوموں کی بھی تباہی ہے۔اور صرف وہ لوگ ہی بچ سکتے ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شعر میں فرمایا کہ: آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار ( در همین ار دو صفحه 154) پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے اپنے آپ کو بچانے کے لئے بھی، دنیا کو بچانے کے لئے بھی ہمیں کوشش کی ضرورت ہے۔اور اس کے لئے اپنی پوری طاقتیں اور استعدادیں استعمال کرنی ہوں گی کہ اللہ تعالیٰ کو ہم کس طرح حاصل کریں۔آپ فرماتے ہیں کہ " انسان روٹی کھاتا ہے جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھالے ، پیٹ نہ بھر لے " اس کی بھوک نہیں جاتی۔اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھا لیوے، ایک ٹکڑہ چھوٹا سالے لے، ایک ذرہ کھا لے " تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟ ہر گز نہیں۔اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اسے ہر گز نہ بچا سکے گا بلکہ باوجود اس قطرہ کے وہ مرے گا۔" فرمایا کہ " حفظ جان کے واسطے وہ قدر محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھالے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔" ایک خاص مقدار ہے اور جب تک بھو کا اس حد تک نہیں کھائے گا اور پیاسا اس حد تک پانی نہیں پئے گا بیچ نہیں سکتا۔"یہی حال انسان کی دینداری کا ہے۔جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیر ی ہو بچ نہیں سکتا۔دینداری، تقویٰ، خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہئے جیسے روٹی اور پانی کو اس وقت تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔"