خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 517
خطبات مسرور جلد 16 517 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 زندہ ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کی پروا نہیں رکھتا۔دنیا ہر طرح مل جاتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا ہی مبارک ہے لیکن جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے وہ ایک مردار کی طرح ہے جو کبھی سچی نصرت کا منہ نہیں دیکھتا۔یہ بیعت اس وقت کام آسکتی ہے جب دین کو مقدم کر لیا جاوے اور اس میں ترقی کرنے کی کوشش ہو۔بیعت ایک بیج ہے جو آج بویا گیا اب اگر کوئی کسان صرف زمین میں تخمریزی پر ہی قناعت کرے " بیج بو دے اور کہہ دے کہ ٹھیک ہو گیا سب کچھ " اور پھل حاصل کرنے کے جو جو فرائض ہیں ان میں سے کوئی ادانہ کرے۔نہ زمین کو درست کرے، اور نہ آبپاشی کرے، اور نہ موقعہ بہ موقعہ مناسب کھاد زمین میں ڈالے ، نہ کافی حفاظت کرے تو کیا وہ کسان کسی پھل کی امید کر سکتا ہے ؟ یہ علاقہ بھی زراعت کا ہے۔بہت سارے لوگ نئے آنے والے بھی جو یہاں اب آئے ہیں رفیوجی سٹیٹس (refugee status) پر یا اسائلم لے کر وہ دیہاتوں سے بھی آئے ہوئے ہیں ، ان کو بھی پتہ ہے کہ اگر بیج بونے کے بعد فصل کی صحیح نگہداشت نہ کی جائے فصل کی تو اسے پھل نہیں لگتا۔پس یہاں آنے والوں کو ، نئے آنے والوں کو اس حوالے سے میں یہ بھی کہہ دوں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ کے حالات بہتر کئے ، مذہبی آزادی دی، عبادت کا حق ادا کر سکتے ہیں اور آزادی سے اپنے مذہب کا اظہار کر سکتے ہیں۔اس لئے ہر احمدی کے لئے یہ بھی ضروری ہے اور خاص طور پر جو پاکستان سے یہاں آئے ہوئے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے لئے پوری کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے اپنی تمام تر طاقتوں کو استعمال کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو اپنے باغ کی یا فصل کی صحیح نگہداشت نہیں کرے گا۔۔۔اس کا کھیت بالضرور تباہ اور خراب ہو گا۔کھیت اسی کا رہے گا جو پور از میندار بنے گا۔سو ایک طرح کی تخم ریزی آپ نے بھی آج کی ہے۔" ان لوگوں کو سمجھا رہے ہیں جو آپ کے سامنے موجود تھے اور آج ہم اس کے مخاطب ہیں کہ ہم نے بھی بیج بویا ہے، احمدیت کو قبول کیا ہے۔" خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کے مقدر میں کیا ہے لیکن خوش قسمت وہ ہے جو اس تخم کو محفوظ رکھے اور اپنے طور پر ترقی کے لئے دعا کر تا رہے۔مثلاً نمازوں میں ایک قسم کی تبدیلی ہونی چاہئے۔" نمازوں کی طرف توجہ ہونی چاہئے۔صرف یہ نہیں کہ ہم نے مسجد میں بنالیں ، مسجدیں بنالیں تو ان کے حق ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 37-38) ادا کرنے کی بھی کوشش چاہئے۔پھر ایک بڑی ضروری نصیحت آپ نے جماعت کو کی ہے جو میں پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں " آجکل زمانہ بہت خراب ہو رہا ہے۔قسم قسم کا شرک ، بدعت اور کئی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔بیعت کے وقت جو اقرار کیا جاتا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔اب چاہئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہے ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی۔اور اگر قائم ہوگے تو اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں برکت دے گا۔" دین میں بھی برکت دے گا، دنیا میں بھی برکت دے گا۔" اپنے اللہ کے منشا کے مطابق پورا تقویٰ اختیار کرو۔زمانہ نازک ہے۔قہر الہی نمودار ہو رہا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالے گا وہ اپنی جان اور اپنی آل و اولاد پر رحم کرے گا۔"