خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 516 of 728

خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 516

خطبات مسرور جلد 16 516 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اکتوبر 2018 پھر آپ فرماتے ہیں کہ ابھی تک جو تعریف کی جاتی ہے " جماعت کی یا احمدیوں کی " وہ خدا تعالیٰ کی ستاری کرارہی ہے ، اللہ تعالیٰ پر وہ پوشی کر رہا ہے " لیکن جب کوئی ابتلا اور آزمائش آتی ہے تو وہ انسان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے۔اس وقت وہ مرض جو دل میں ہوتی ہے اپنا پورا اثر کر کے انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 297-298) اُس اپنے زمانے کی جب آپ بات کر رہے ہیں، اس وقت تو تقویٰ اور نیکی کا معیار آج کی نسبت بہت بلند تھا لیکن آپ کے دل میں اُس وقت بھی ایک درد تھا۔آج ہم اپنی حالتیں دیکھ کر خود جائزہ لے سکتے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہے۔ہمارا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نیکی کے معیار کیا ہیں۔پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے کہ سچا مومن کون ہے آپ فرماتے ہیں "یقین یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مومن اور بیعت میں داخل ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرلے جیسا کہ وہ بیعت کرتے وقت کہتا ہے۔اگر دنیا کی اغراض کو مقدم کرتا ہے تو وہ اس اقرار کو توڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ٹھہر تا ہے۔فرمایا " یقیناً یاد رکھو کہ جب تک انسان کی عملی حالت درست نہ ہو زبان کچھ چیز نہیں۔یہ نری لاف گزاف ہے۔سچا ایمان وہی ہے جو دل میں داخل ہو اور اس کے اعمال کو اپنے اثر سے رنگین کر دے۔سچا ایمان ابو بکر اور دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا کیونکہ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال تو مال جان تک کو دے دیا اور اس کی پروا بھی نہ کی۔۔" فرمایا" مجھے ہمیشہ خیال آتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا نقش دل پر ہو جاتا ہے۔اور کیسی بابرکت وہ قوم تھی اور آپ کی قوت قدسیہ کا کیسا قوی اثر تھا کہ اس قوم کو اس مقام تک پہنچا دیا۔غور کر کے دیکھو کہ آپ نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ایک حالت اور وقت ان پر ایسا تھا کہ تمام محرمات ان کے لئے شیر مادر کی طرح تھیں " یعنی ماں کے دودھ کی طرح سب برائیاں کرنے والے تھے۔"چوری، شراب خوری، زنا، فسق و فجور سب کچھ تھا۔غرض کون سا گناہ تھا جو ان میں نہ تھا۔لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض صحبت اور تربیت سے اُن پر وہ اثر ہوا اور ان کی حالت میں وہ تبدیلی پیدا ہوئی کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شہادت دی اور کہا اللهُ اللهُ فِي أَصْحَانِی۔گویا بشریت کا چولہ اتار کر مظہر اللہ ہو گئے تھے اور ان کی حالت فرشتوں کی سی ہو گئی تھی جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: 51) " یعنی جو کہا جاتا ہے وہی کرتے ہیں " اس کے مصداق ہیں ، ٹھیک ایسی ہی حالت صحابہ کی بن گئی تھی۔ان کے دلی ارادے اور نفسانی جذبات بالکل دور ہو گئے تھے۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 296-297) پھر آپ فرماتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد ایک احمدی کو کیا ہونا چاہئے اور کس طرح اس کا جماعت کے ساتھ مضبوط تعلق ہونا چاہئے اور اپنے زمانے میں آپ کے ساتھ اور پھر آپ نے فرمایا کہ میرے بعد جو خلافت کا سلسلہ شروع ہو گا اس کے ساتھ جڑے رہنا کہ وہ دائمی سلسلہ تمہارے ساتھ چلے گا۔آپ فرماتے ہیں کہ "جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر خشک ہو کر گر جاتی ہے۔جو شخص